Tafsir As-Saadi
3:156 - 3:158

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا اور کہا انھوں نے واسطے اپنے بھائیوں کے، جب سفر کیا انھوں نے زمین میں یا تھے وہ لڑنے والے، اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے وہ اور نہ قتل کیے جاتےتاکہ کر دے اللہ اس (فاسد خیال) کو پچھتاوا ان کے دلوں میں اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(156) اور البتہ اگر قتل کر دیے گئے تم اللہ کے راستے میں یا مر گئے تو البتہ بخشش اللہ کی اور رحمت، بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں(157) اور البتہ اگر تم مر گئے یا قتل کر دیے گئے تو یقینا اللہ ہی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(158)

[156] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں ﴿اِذَا ضَرَبُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انھیں موت آ جاتی ہے یا وہ قتل ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا﴾ ’’اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے‘‘ یہ ان کا جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾(آل عمران : 3؍154) ’’کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا تو وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ رہے اہل ایمان ، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿وَاللّٰهُ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے اعمال اور تمھاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
[157] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں۔
[158] نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔