اور نہ ہرگز گمان کریں آپ ان لوگوں کو جو قتل کر دیے گئے اللہ کے راستے میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں، نزدیک اپنے رب کے وہ رزق دیے جاتے ہیں(169) وہ خوش ہیں ان پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوشی محسوس کرتے ہیں وہ ساتھ ان کے جو نہیں ملے ان کو ان کے پیچھے سے، یہ کہ نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(170) وہ خوشی محسوس کرتے ہیں ساتھ احسان کے اللہ کی طرف سے اور (ساتھ اس کے) فضل کے اور اس پر کہ بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا(171)
[169] ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہو گئے ﴿ اَمۡوَاتًا ﴾ ’’ان کو مردہ گمان مت کرو‘‘ یعنی ان کے بارے میں تمھارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہو گئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہو گئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہو گئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ ﴿ بَلۡ ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کر چکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿ يُرۡزَقُوۡنَ﴾ یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں۔
[170] اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہو گی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کر دیا ہے۔پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہو گئی ﴿ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہو چکے ہیں ﴿ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔
[171]﴿يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ ﴾ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔