بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔