Tafsir As-Saadi
30:1 - 30:7

الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔
[6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔
[7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔