کیا نہیں غورو فکر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کے اور ایک وقت مقرر کے لیے؟ اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے البتہ کافر (منکر) ہیں(8) کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو پہلے تھے ان سے؟ تھے وہ زیادہ ان سے قوت میں، اور پھاڑا تھا انھوں نے زمین کو اور آباد کیا تھا انھوں نے اسے بہت زیادہ اس سے جو انھوں نے آباد کیا ہے اسے اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلائل کے پس نہیں تھا اللہ کہ وہ ظلم کرتا ان پر اور لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے آپ پر ظلم کرتے(9) پھر ہوا انجام ان لوگوں کا، جنھوں نے برا کیا تھا، برا ہی اس لیے کہ جھٹلایا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو، اور تھے وہ ان کا مذاق اڑاتے(10)
[8] کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾’’اپنے آپ پر؟‘‘ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔﴿مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور وقت مقرر تک۔‘‘ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔
[9] ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے، مثلاً: انھوں نے محلات اور کارخانے بنائے، باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انھوں نے اپنے رسولوں کی، جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے، تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انھیں کوئی فائدہ دیا... کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔
[10]﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤى ﴾ ’’ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔‘‘ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔‘‘ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔