اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے، البتہ وہ (بھی) ہے جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ کے اور جو نازل کیا گیا تمھاری طرف اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف، جھکنے والے ہیں وہ واسطے اللہ کے، نہیں خریدتے (لیتے) وہ ساتھ اللہ کی آیتوں کے مول تھوڑا، یہ لوگ، ان کے لیے اجر ہے ان کا، نزدیک ان کے رب کے، بلاشبہ اللہ جلد لینے والا ہے حساب(199) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور ڈٹے رہو اور کمر بستہ رہواور ڈرو اللہ سےتاکہ تم فلاح پاؤ(200)
[199] یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لیے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ حدود پر رک جانے کا موجب ہے۔ یہی لوگ درحقیقت اہل کتاب اور اہل علم ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾(فاطر : 35؍28) ’’اللہ تعالیٰ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ اور کامل خشیت الٰہی یہ ہے کہ ﴿ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’وہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر نہیں بیچتے، پس دین پر دنیا کو ترجیح نہیں دیتے، جیسا کہ اہل انحراف کا وتیرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے بہت معمولی قیمت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہل کتاب، تو انھوں نے معاملے کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور انھیں معلوم ہو گیا ہے کہ دین سے کم تر چیز پر راضی ہونا، نفس کے بعض سفلی حظوظ کے ساتھ ٹھہرنا اور حق کو ترک کرنا جو دنیا و آخرت میں سب سے بڑا حظ اور فوز و فلاح کا ضامن ہے… سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لیے وہ حق کو مقدم رکھتے ہیں، اس کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں اور باطل سے ڈراتے اور بچاتے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ دیا ہے کہ اس نے ان کے لیے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا وعدہ کیا ہے اور اپنے قرب کی خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا ہے اس میں دیر نہ سمجھیں یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اس کا حصول متحقق ہو چکا ہے۔ پس یہ وعدہ بہت قریب ہے۔
[200]پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس چیز کی ترغیب دی ہے جو انھیں فوز و فلاح کی منزل پر پہنچاتی ہے۔ اور وہ ہے سعادت اور کامیابی۔ اس سعادت تک پہنچانے والا راستہ صبر کا التزام ہے اور صبر کیا ہے؟ نفس انسانی کو ایسی چیز پر روکے رکھنا جو اس کو ناپسند ہو، جیسے گناہ کا چھوڑ دینا، مصائب پر صبر کرنا اور نفوس کو ان پر گراں گزرنے والے اوامر پر روکے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام امور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔(مصابرہ)صبر کے دائمی اور مسلسل التزام اور تمام احوال میں دشمن کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔﴿ وَرَابِطُوۡا ﴾(مرابطۃ) سے مراد اس مقام پر جمے رہنا جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو۔ نیز یہ کہ اہل ایمان دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور ان کو اپنا مقصد حاصل نہ کرنے دیں۔۔۔۔ شاید وہ فلاح پا لیں یعنی دینی، دنیاوی اور اخروی محبوب کے حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائیں اور اسی طرح ناپسندیدہ چیزوں سے نجات پا لیں۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ صرف صبر، صبر پر دوام اور دشمن سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس کسی نے فلاح پائی تو اسی راستہ پر چل کر فلاح پائی اور جو کوئی اس فلاح سے محروم ہوا تو ان تمام امور کو یا ان میں سے بعض کو ترک کر کے محروم ہوا۔
واللہ الموفق ولا حول ولا قوۃ إلا بہ