Tafsir As-Saadi
30:47 - 30:47

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول ان کی قوم کی طرف پس آئے وہ ان کے پاس ساتھ واضح دلیلوں کے، (پھر بھی قوم نے جھٹلایا ) پس انتقام لیا ہم نے ان لوگوں سے جنھوں نے جرم کیے، اور ہے حق ہم پر مدد کرنا مومنوں کی (47)

[47]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھیجے‘‘ یعنی گزشتہ امتوں میں ﴿رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ ﴾ ’’رسول ان کی قوم کی طرف۔‘‘ یعنی جب ان قوموں نے توحید کا انکار کیا اور حق کی تکذیب کی تو ان کے رسول ان کے پاس آئے جو ان کو توحید اور اخلاص کی دعوت دیتے تھے، حق کی تصدیق اور ان کے کفر اور ضلالت کا ابطلال کرتے تھے۔ وہ اپنے اس موقف پر واضح دلائل لے کر آئے، مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے اپنی گمراہی کو ترک کیا ﴿فَانۡتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا ﴾ ’’پس ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کا ارتکاب کیا‘‘ اور انبیاء کی پیروی کرنے والے اہل ایمان کی مدد کی ﴿وَؔكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔‘‘ یعنی اہل ایمان کی نصرت ہم نے خود اپنے آپ پر واجب کی، اہل ایمان کی نصرت کو جملہ متعین حقوق میں شامل کیا اور ان کے ساتھ اس نصرت کا وعدہ کیا۔ پس اس کا واقع ہونا ضروری ہے۔محمد مصطفی ﷺ کی تکذیب کرنے والو! اگر تم تکذیب کی روش پر قائم رہے تو تم پر عذاب نازل ہو گا اور ہم تمھارے خلاف محمد ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز کریں گے۔