اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے لقمان کو حکمت یہ کہ شکر کر تو اللہ کااور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقیناً وہ شکر کرتا ہے اپنی ہی ذات کے لیے، اور جس نے ناشکری کی تو بلاشبہ اللہ بہت بے پروا، قابل تعریف ہے (12) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو ،جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا، اے میرے بیٹے! نہ شریک ٹھہرا تو ساتھ اللہ کے، بلاشبہ شرک البتہ ظلم ہے بہت بڑا (13) اور وصیت کی ہم نے انسان کو ساتھ اپنے والدین کے (نیک سلوک کرنے کی)، اٹھائے رکھا اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے (باوجود) اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو سال میں (اور ) یہ کہ شکر کر تو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف ہے لوٹنا (14) اور اگر وہ دونوں مجبور کریں تجھے اس بات پر کہ تو شریک ٹھہرائے میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، تو نہ اطاعت کرنا تو ان دونوں کی، اور اچھا سلوک کر تو ان دونوں سے دنیا میں معروف طریقے سے، اور اتباع کر تو اس شخص کے راستے کا جو رجوع کرتا ہے میری طرف، پھر میری ہی طرف واپسی ہے تمھاری پس خبر دوں گا میں تمھیں ا س کی جو تھے تم عمل کرتے (15) اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر ہو وہ (عمل) برابر ایک دانے رائی کے ، پھر ہو وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں تو لے آئے گا اسے اللہ، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بیں، خوب باخبر ہے (16) اے میرے (پیارے) بیٹے! قائم کر تو نماز اور حکم کر توساتھ نیکی کے، اور روک تو برے کاموں سے، اور صبر کر تو اوپر اس (تکلیف) کے جو پہنچے تجھے، بلاشبہ یہ ہے ہمت کے کاموں میں سے (17) اور نہ تو پھیر اپنا رخ لوگوں سے اور نہ تو چل زمین میں اکڑ کر ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا ہرمتکبر، شیخی خور ے کو (18) اورمیانہ روی اختیار کر تو اپنی چال میں اور پست رکھ تو اپنی آواز بلاشبہ بدترین آوازوں میں سے البتہ آواز ہے گدھے کی (19)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے صاحب فضیلت بندے لقمان پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اسے حکمت سے نوازا اور وہ حق اور اس (اللہ) کی حکمت کا علم ہے۔ یہ احکام کے علم ، ان کے اسرار نہاں اور ان کے اندر موجود دانائی کی معرفت کا نام ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان صاحب علم ہوتا ہے، مگر حکمت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ رہی حکمت، تو یہ علم کو مستلزم ہے بلکہ عمل کو بھی مستلزم ہے بنا بریں حکمت کی علم نافع اور عمل صالح سے تفسیر کی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان پر اپنی بڑی نوازش کی تو ان کو اپنی عطاو بخشش پر شکر کرنے کا حکم دیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو برکت دے اور ان کے لیے اپنے فضل و کرم میں اضافہ کرے، نیز آگاہ فرمایا کہ شکر کی منفعت شکر کرنے والوں ہی کی طرف لوٹتی ہے اور جو کوئی شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے، جو کوئی اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وہ بے نیاز اور قابل ستائش ہے، اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کا اپنی صفات کمال اور اپنے خوبصورت کاموں میں قابل ستائش ہونا اس کی ذات کا لازمہ ہے، اس کے ان دونوں اوصاف میں سے ہر وصف، صفت کمال ہے اور دونوں اوصاف کا مجتمع ہونا گویا کمال کے اندر کمال کا اضافہ ہے۔اس بارے میں اصحاب تفسیر میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا جناب لقمان نبی تھے یا اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی ان میں کچھ ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا جو ان کی حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ انھوں نے حکمت کے بڑے بڑے قواعد اور اصولوں کا ذکر کیا:
[13]﴿وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ﴾ ’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا‘‘ یا انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک بات کہی جس کے ذریعے سے انھوں نے اسے امرونہی کی نصیحت کی جو ترغیب و ترہیب سے مقرون تھی۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو اخلاص کا حکم دیا، اسے شرک سے منع کیا اور ممانعت کا سبب بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’یقینا شرک ظلم عظیم ہے‘‘ اور اس کے ظلم عظیم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی برا نہیں جو مٹی سے بنی ہوئی مخلوق کو کائنات کے مالک کے مساوی قرار دیتا ہے، وہ اس ناچیز کو جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی اس ہستی کے برابر سمجھتا ہے جو تمام اختیارات کی مالک ہے۔ جو ناقص اور ہر لحاظ سے محتاج ہستی کو رب کامل کے برابر مانتا ہے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، وہ ایسی ہستی کو جس کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ذرہ بھر بھی کسی کو نعمت عطا کر سکے ایسی ہستی کے مساوی قرار دیتا ہے کہ مخلوق کے دین و دنیا، آخرت اور ان کے قلب و بدن میں جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور اس ہستی کے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔ کیا اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے؟کیا اس سے بڑا کوئی ظلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی عبادت اور توحید کے لیے پیدا کیا وہ اپنے شرف کے حامل نفس کو خسیس ترین مرتبے تک گرا دیتا ہے اور اس سے ایسی چیز کی عبادت کراتا ہے جو کچھ بھی نہیں؟ پس وہ اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔
[14] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کو قائم کرنے یعنی شرک کو ترک کرنے کا حکم دیا جس کا لازمہ قیام توحید ہے، تو پھر والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسَانَ ﴾ ’’اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اس سے عہد لیا اور اس عہد کو وصیت بنا دیا کہ ہم عنقریب اس سے پوچھیں گے کہ آیا اس نے اس وصیت کو پورا کیا؟ اور کیا اس نے اس وصیت کی حفاظت کی ہے یا نہیں؟ہم نے اسے ﴿بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اس کے والدین کے بارے میں‘‘ وصیت کی اور اس سے کہا: ﴿اشۡكُرۡ لِيۡ ﴾ میری عبودیت کے قیام اور میرے حقوق کی ادائیگی کے ذریعے سے میرا شکر ادا کر اور میری نعمتوں کو میری نافرمانی میں استعمال نہ کر۔ ﴿وَلِوَالِدَيۡكَ ﴾ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک، یعنی نرم و لطیف قول، فعل جمیل، ان کے سامنے تواضع و انکسار، ان کے اکرام و اجلال، ان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے، ان کے ساتھ قول و فعل اور ہر لحاظ سے برے سلوک سے اجتناب کرنے کے ذریعے سے ان کا شکر ادا کر۔ ہم نے اسے یہ وصیت کرنے کے بعد آگاہ کیا ﴿اِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ کہ اے انسان! عنقریب تجھے اس ہستی کی طرف لوٹنا ہے جس نے تجھے وصیت کر کے ان حقوق کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے۔ وہ ہستی تجھ سے پوچھے گی: ’’کیا تو نے اس وصیت کو پورا کیا کہ وہ تجھے اس پر ثواب عطا کرے یا تو نے اس وصیت کو ضائع کر دیا تاکہ تجھے بدترین سزا دے؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بعد اس سبب کا ذکر فرمایا جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کا موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ ﴾ ’’اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف برداشت کرکے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا۔‘‘ یعنی نہایت مشقت کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ وہ استقرار نطفہ ہی سے مشقتوں کا سامنا کرتی رہتی ہے، مثلاً: بعض چیزوں کے کھانے کو جی چاہنا، بیماری، کمزوری، حمل کا بوجھ، حالت میں تغیر اور پھر وضع حمل کے وقت سخت تکلیف کا سامنا کرنا ﴿وَّفِصٰلُهٗ فِيۡ عَامَيۡنِ ﴾ ’’اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا۔‘‘ یعنی وہ اپنی ماں کی پرورش، کفالت اور رضاعت کا محتاج ہوتا ہے۔ کیا اس ہستی کے ساتھ حسن سلوک نہ کیا جائے جو شدید محبت کے ساتھ اپنے بچے کی خاطر یہ سختیاں برداشت کرتی ہے اور اس کے بیٹے کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور وصیت نہ کی جائے؟
[15]﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ ﴾ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ ’’اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔‘‘ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) ’’اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر‘‘ بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعۡهُمَا ﴾ یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا:﴿وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ﴾ ’’اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾ ’’اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔‘‘ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔
[16]﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنۡ تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اے میرے بیٹے! بلاشبہ اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو‘‘ جو سب سے چھوٹی اور حقیر ترین چیز ہے ﴿فَتَكُنۡ فِيۡ صَخۡرَةٍ ﴾ ’’اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو۔‘‘ یعنی چٹان کے درمیان ﴿اَوۡ فِي السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا آسمان یا زمین کے اندر ہو‘‘ یعنی زمین وآسمان کی کسی بھی جہت میں ہو ﴿يَاۡتِ بِهَا اللّٰهُ ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے علم وسیع، خبر تام اور قدرت کامل کے ذریعے سے اسے لے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ خَبِيۡرٌ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم اور اپنی خبر میں بہت باریک بین ہے حتیٰ کہ وہ باطنی امور اور اسرار نہاں، بیابانوں اور سمندروں میں چھپی ہوئی چیزوں کی بھی خبر رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے جہاں تک ممکن ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب اور قبیح امور سے، خواہ کم ہوں یا زیادہ، ترہیب مقصود ہے۔
[17]﴿يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے بیٹے! نماز کی پابندی کر‘‘ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔‘‘ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ﴾ ’’اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔‘‘ یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے ، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَ اصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات‘‘ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔
[18]﴿وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾ اور تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے تکبر کے ساتھ، لوگوں سے منہ نہ پھیر ﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا ﴾ اور انعام کرنے والی ہستی کو فراموش کر کے، اس کی نعمتوں پر فخر کرتے ہوئے خود پسندی کے ساتھ اتراتا ہوا زمین پر مت چل ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ﴾ ’’یقینا اللہ کسی خود پسند سے محبت نہیں کرتا‘‘ جو اپنے آپ میں، اپنی ہیئت میں تکبر کرتا ہے۔ ﴿فَخُوۡرٍ ﴾ یعنی جو اپنی باتوں میں فخر کا اظہار کرتا ہے۔
[19]﴿وَاقۡصِدۡ فِيۡ مَشۡيِكَ ﴾ ’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔‘‘ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنۡؔكَرَ الۡاَصۡوَاتِ ﴾ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴾ ’’گدھوں کی آواز ہے۔‘‘ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔
یہ وصیتیں، جو جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کی ہیں، حکمت کی بڑی بڑی باتوں کی جامع ہیں اور ان باتوں کو بھی مستلزم ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ ہر وصیت کے ساتھ ایک داعیہ مقرون ہے جو امر کی صورت میں اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے اور اگر معاملہ نہی کا ہے تو اس پر عمل سے روکتا ہے اور یہ چیز ہماری اس تفسیر پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ’’حکمت‘‘ کے ضمن میں بیان کی ہے کہ یہ احکام، ان کی حکمتوں اور ان کی مناسبات کا نام ہے۔لقمان نے اپنے بیٹے کو دین کی بنیاد یعنی توحید کا حکم دیا اور شرک سے منع کیا اور ترک شرک کے موجبات کو بیان کیا۔ جناب لقمان نے ا پنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کے موجبات کو بھی واضح کیا ، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہو۔ پھر واضح کیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حکم کی اطاعت کی حدود وہاں تک ہیں جہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ بایں ہمہ ان کے ساتھ مخالفت اور عدم شفقت کا رویہ نہ رکھے، بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جب وہ اسے شرک پر مجبور کریں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے مگر اس صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کو ترک نہ کرے۔جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے مراقبے کا حکم دیا اور اسے خوف دلایا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی نیکی اور بدی اس کے حضور پیش ہو گی۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر سے روکا، اسے تواضع اور انکسار کا حکم دیا، اسے خوشی میں اترانے اور اکڑنے سے منع کیا، اسے اپنی حرکات اور آواز میں سکون اور دھیما پن اختیارکرنے کا حکم دیا اور اس کے متضاد رویے سے روکا، اسے ترغیب دی کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے نیز نماز قائم کرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، جن کی مدد سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ﴾(البقرۃ:2؍45) ’’اور صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔‘‘ جس شخص نے ان باتوں کی وصیت کی ہو وہ اس امر کا حق دار ہے کہ وہ حکمت و دانائی کے لیے مخصوص اور مشہور ہو، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے ان کے سامنے اس کی حکمت کا ذکر کیا جو ان کے لیے اچھا نمونہ بن سکے۔