Tafsir As-Saadi
31:10 - 31:11

اس (اللہ) نے پیدا کیے آسمان بغیر (ایسے) ستونوں کے کہ دیکھتے ہو تم ان کو اور اس نے گاڑ دیے زمین میں مضبوط (پہاڑ) تاکہ (نہ) جھک پڑے وہ تمھیں لے کروہ اور اس نے پھیلائے اس میں ہر قسم کے چوپائے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اگائی ہم نے اس میں (غلوں کی) ہر قسم عمدہ (10) یہ مخلوق ہے اللہ کی، پس دکھاؤ تم مجھے کیا ہے وہ جو پیدا کیا ہے ان (معبودوں) نے جو اس کے سوا ہیں؟بلکہ ظالم ہی صریح گمراہی میں ہیں (11)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنی قدرت کے کچھ آثار، اپنی حکمت کی کچھ انوکھی چیزیں اور اپنی رحمت کے آثار میں سے کچھ نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے:﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ﴾ اس نے ساتوں آسمانوں کو ان کی عظمت، ان کی وسعت، ان کی کثافت اور ان کی ہولناک بلندیوں کے ساتھ پیدا کیا ﴿بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ان کو سہارا دینے کے لیے کوئی ستون نہیں۔ اگر کوئی ستون ہوتا تو ضرور نظر آتا۔ آسمان صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔﴿وَاَلۡقٰى فِي الۡاَرۡضِ رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی بڑے بڑے پہاڑ، جن کو زمین کے کناروں اور گوشوں میں گاڑ دیا تاکہ زمین ﴿تَمِيۡدَ بِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ اگر یہ مضبوطی سے گاڑے ہوئے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ڈھلک جاتی اور اپنے بسنے والوں کے ساتھ استقرار نہ پکڑتی۔ ﴿وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ دَآبَّةٍ ﴾ اس وسیع زمین میں تمام اصناف کے حیوانات پھیلائے جو انسانوں کے مصالح و منافع کے لیے مسخر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر حیوانات پھیلائے تو اسے معلوم تھا کہ ان حیوانات کے زندہ رہنے کے لیے رزق بہت ضروری ہے اس لیے اس نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا۔ ﴿فَاَنۢۡبـَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگادیے۔‘‘یعنی خوش منظر، نفع مند نباتات جن میں زمین کے اندر پھیلے ہوئے حیوانات چرتے ہیں اور ان کے نیچے تمام حیوانات سکون حاصل کرتے ہیں۔
[11]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوق، جمادات و حیوانات اور تمام مخلوقات کے لیے رزق رسانی ﴿خَلۡقُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق ہے۔‘‘ جو وحدہ لاشریک ہے، جس کا سب اقرار کرتے ہیں حتیٰ کہ اے مشرکو! تم بھی اقرار کرتے ہو۔ ﴿فَاَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’پس مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو لوگ ہیں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے؟‘‘ یعنی جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے، جن کو تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان کی بھی کوئی تخلیق ہو جیسی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، ان کے یہ خود ساختہ معبود بھی رزق عطا کرتے ہوں جیسے اللہ تعالیٰ رزق رسانی کرتا ہے۔ اگر تمھارے خود ساختہ معبودوں نے ان میں سے کوئی کام کیا ہے تو مجھے بھی دکھاؤ تاکہ تمھارا ان کے بارے میں یہ دعویٰ ثابت ہو کہ وہ عبادت کے مستحق ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دکھا سکتے جو ان باطل معبودوں کی تخلیق ہو کیونکہ مذکورہ تمام اشیاء کے بارے میں وہ اقرارکر چکے ہیں کہ وہ اللہ وحدہ کی تخلیق کردہ ہیں اور ان اشیاء کے علاوہ وہاں کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لہٰذا وہ کسی ایسی چیز کو ثابت کرنے سے عاجز ہیں جو عبادت کی مستحق ہو۔ ان کا ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا کسی علم اور بصیرت پر مبنی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی کی بنا پر ہے، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ یعنی جو بالکل صاف، ظاہر اور واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع کی مالک ہیں نہ نقصان کی، جن کے قبضۂ قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں... اور ان لوگوں نے اپنے خالق اور رازق کے لیے اخلاص کو چھوڑ دیا جو تمام امور کا مالک ہے۔