اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو خریدتے ہیں غافل کرنے والی باتیں تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کی راہ سے بغیر علم کے، اور(تاکہ) بنائیں اس (راہ ہدایت) کو مذاق، یہی لوگ ہیں، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا(6) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں، وہ پھر جاتا ہے تکبر کرتے ہوئے گویا کہ اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا کہ اس کےدونوں کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے، پس خوشخبری دے دیجیے اسے عذاب درد ناک کی(7) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہیں باغ ہائے نعمت(8) وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (یہ) وعدہ ہے اللہ کا سچا اور وہ غالب ہے، حکمت والا(9)
[6]﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ ﴾ ’’اور لوگوں میں سے جو‘‘ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ﴿يَّشۡتَرِيۡ ﴾ ’’خریدتا ہے‘‘ یعنی جو اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ﴿لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’لغو باتیں‘‘ یعنی دلوں کو غافل کرنے اور ان کو جلیل القدر مقاصد سے روکنے والے قصے کہانیاں۔ اس آیت کریمہ میں ہر محرم کلام، ہر قسم کی لغویات، ہر قسم کے باطل ہذیانی اقوال جو کفر و فسوق اور عصیان کی ترغیب دیتے ہیں، ان لوگوں کے نظریات جو حق کو ٹھکراتے ہیں اور باطل دلائل کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ، سب و شتم، شیطانی گانا بجانا، غفلت میں مبتلا کرنے والے قصے کہانیاں، جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں، داخل ہیں۔ لوگوں کی یہ صنف ہدایت کی باتوں کو چھوڑ کر کھیل تماشوں پر مشتمل قصے کہانیاں خریدتی ہے۔ ﴿لِيُضِلَّ ﴾ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بغیر علم کے اللہ کی راہ سے‘‘ یعنی اپنے فعل میں خود گمراہی کا راستہ اختیار کر کے دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کا گمراہ کرنے کا عمل خود اس کی اپنی گمراہی سے جنم لیتا ہے، اس کا اس لہو الحدیث سے گمراہ کرنے سے مراد اس کا فائدہ مند بات، عمل نافع، حق مبین اور صراط مستقیم سے روکنا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک اس کے لیے تکمیل نہیں پاتا جب تک کہ وہ ہدایت اور حق میں (جسے اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آئی ہیں) جرح و قدح نہیں کرتا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور ان کو لانے والے کا تمسخر اڑاتا ہے۔جب ایسے شخص میں باطل کی مدح، اس کی ترغیب، حق میں جرح و قدح، حق اور اہل حق کے ساتھ استہزا وتمسخراکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ بے علم آدمی کو گمراہ کرتا ہے اور اسے ایسی بات بیان کرکے دھوکا دیتا ہے، جس میں گمراہ شخص امتیاز کر سکتا ہے نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ استہزا کیا اور واضح حق کی تکذیب کی۔
[7] اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں‘‘ تاکہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے ﴿وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا ﴾ تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر جاتا ہے جیسے ان آیات سے تکبر کرنے اور ان کو ٹھکرانے والا پیٹھ پھیرتا ہے۔ یہ آیات اس کے دل میں داخل ہوتی ہیں نہ اس پر کچھ اثر کرتی ہیں بلکہ وہ ان کو پیٹھ کر کے چل دیتا ہے۔ ﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا ﴾ ’’جیسے اس نے ان کو سنا ہی نہ ہو‘‘ بلکہ ﴿كَاَنَّ فِيۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا ﴾ ’’گویا اس کے کانوں میں گرانی ہو‘‘ اور آواز اس کے کانوں تک پہنچ ہی نہ سکتی ہو، لہٰذا اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡهُ ﴾ ’’پس اس کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ یعنی اسے ایسی بشارت دیں جو اس کے قلب کو حزن و غم سے لبریز کر دے اور اس کے چہرے پر بدحالی، اندھیرا اور گردوغبار چھا جائیں۔ ﴿بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’دردناک عذاب کی۔‘‘ جو قلب و بدن کے لیے بہت درد ناک ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کو جانا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی اہل شر کی بشارت اور کتنی بری تھی یہ بشارت۔
[8، 9] رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمۡ جَنّٰتُ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔‘‘ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا ﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔