اور اگر آپ دیکھیں، جب مجرم لوگ جھکائے ہوئے ہوں گے سر اپنے نزدیک اپنے رب کے (تو کہیں گے:) اے ہمارے رب! دیکھ لیا ہم نے اور سن لیا ہم نے، پس واپس بھیج ہمیں، کریں ہم نیک عمل، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں (12) اور اگر ہم چاہتے تو دے دیتے ہم ہر نفس کو ہدایت اس کی، لیکن ثابت ہو گیا قول (وعدہ) میری طرف سے کہ البتہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے (13) پس چکھو تم (عذاب) بوجہ اس کےجوبھلائے رکھا تم نے ملاقات کو اپنے اس دن کی، بے شک (آج) بھلا دیا ہم نے تم کو اور چکھو تم عذاب ہمیشہ کا، بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے (14)
[12] اللہ تبارک وتعالیٰ نے قیامت کے روز ان کے اپنی طرف لوٹنے کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد، اپنے حضور ان کی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں، جبکہ گناہ گار‘‘ جنھوں نے بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کیا ﴿نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ خشوع و خضوع کے ساتھ سرنگوں ہو کر، اپنے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے، واپس لوٹائے جانے کی درخواست کر کے عرض کریں گے:﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔‘‘ یعنی تمام معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہم نے اسے عیاں طور پر دیکھ لیا اور ہمارے لیے عین الیقین بن گیا۔ ﴿فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں بلاشبہ ہم یقین کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جن حقائق کو ہم جھٹلایا کرتے تھے اب ہمیں ان کا یقین آ گیا ہے۔ تو آپ بہت برا معاملہ، ہولناک حالات، خائب و خاسر لوگ اور نامقبول دعائیں دیکھیں گے، کیونکہ مہلت کا وقت تو گزر چکا۔
[13] اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے کہ وہ ان کے اور کفرومعاصی کے درمیان سے نکل گیا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَوۡ شِئۡنَا لَاٰتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدٰؔىهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔‘‘ یعنی ہم تمام لوگوں کو ہدایت سے نواز کر ہدایت پر جمع کر دیتے۔ ہماری مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہماری حکمت یہ نہیں چاہتی کہ تمام لوگ ہدایت پر جمع ہوں، اسی لیے فرمایا:﴿وَلٰكِنۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ مِنِّيۡ ﴾ ’’لیکن میری یہ بات بالک حق ہوچکی ہے۔‘‘ یعنی میرا حکم واجب ہو گیا اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ اس میں تغیر کا کوئی گزر نہیں ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔‘‘ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس کے اسباب، یعنی کفر ومعاصی ضرور متحقق ہوں گے۔
[14]﴿فَذُوۡقُوۡا بِمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’پس چکھو تم (عذاب) اس دن کی ملاقات کو بھول جانے کی وجہ سے۔‘‘ یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا، جن پر ذلت طاری ہو چکی ہو گی اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کر رہے ہوں گے تاکہ اپنے اعمال کی تلافی کر سکیں، واپس لوٹنے کا وقت چلا گیا، اب عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں، لہٰذا اب تم دردناک عذاب کا مزا چکھو، اس پاداش میں کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا تھا۔ نسیان کی یہ قسم نسیان ترک ہے، یعنی تم نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرا اور اس کی خاطر عمل کو ترک کر دیا گویا کہ تم سمجھتے تھے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے نہ اس سے ملاقات کرنی ہے۔ ﴿اِنَّا نَسِيۡنٰكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ یہ جزا تمھارے عمل کی جنس میں سے ہے۔ جس طرح تم نے بھلائے رکھا اس طرح تمھیں بھی بھلا دیا گیا۔ ﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ﴾ کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کا مزا چکھو کیونکہ جب عذاب کی مدت اور انتہا مقرر ہو تو اس میں کسی حد تک تخفیف کا پہلو پایا جاتا ہے، رہا جہنم کا عذاب... اللہ تعالیٰ اس عذاب سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے... تو اس عذاب میں کوئی راحت ہو گی نہ ان پر یہ عذاب کبھی منقطع ہو گا۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے اعمال کی وجہ سے۔‘‘ یعنی کفر، فسق اور معاصی کی پاداش میں۔