اے نبی! ڈریں اللہ سے اور نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا، حکمت والا(1) اور پیروی کیجیے اس چیز کی جووحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے بے شک اللہ ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار(2) اور توکل کیجیے اوپر اللہ کے اور کافی ہے اللہ کار ساز(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2]یعنی اے وہ ہستی! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی، اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ پس اس کے اوامر و نواہی پر عمل کیجیے، اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے، اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائیے اور تمام مخلوق کی خیرخواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا سکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کر سکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے، کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ، لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانئے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اتَّبِـعۡ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔‘‘ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کر کے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے، وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
[3]اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔