Tafsir As-Saadi
33:4 - 33:5

نہیں بنائے اللہ نے واسطے کسی آدمی کے دو دل اس کے سینے میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو، وہ جو ظہار کرتے ہو تم ان سے، تمھاری مائیں، اور نہیں بنایا اس نے تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے، یہ تمھارا کہنا ہے اپنے مونہوں سے، اور اللہ کہتا ہے حق اور وہی ہدایت دیتا ہے سیدھے راستے کی (4) پکارو تم ان کو ان کے باپوں کی طرف (نسبت کر کے) یہ زیادہ انصاف کی بات ہے نزدیک اللہ کے، پس اگر نہ جانوان کے باپوں کو تو (وہ) بھائی ہیں تمھارے دین میں اور دوست تمھارے، اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ اس میں جو چوک جاؤ تم اس (کے بولنے) میں لیکن (وہ گناہ ہے) جوارادہ کیا تمھارے دلوں نے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5)

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے، جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں، جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو، خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے، مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت و قوع اور ان کو بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِيۡ جَوۡفِهٖ﴾’’اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے‘‘ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔﴿وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيۡ تُظٰهِرُوۡنَ ﴾ ’’اور (اللہ نے) نہیں بنایا تمھاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو‘‘ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا: ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا، جیسے میری ماں‘‘ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انھیں ﴿اُمَّهٰؔتِكُمۡ ﴾ ’’تمھاری مائیں‘‘ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا، جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے، تب تو دو متناقض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ١ؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا ؔ﴾(المجادلۃ:58؍2)’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا، بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔‘‘﴿وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ۠ اَبۡنَآءَكُمۡ﴾ ’’اور تمھاری لے پالکوں کو تمھارے بیٹے نہیں بنایا۔‘‘ (اَدْعِیَاء) اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہا جائے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو، جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمھارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،تمھارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمھارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو وہ تمھارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس کا باپ فلاں ہے ﴿قَوۡلُكُمۡ بِاَفۡوَاهِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ حق بات کہتا ہے۔‘‘ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمھیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے، تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب نہیں کیے جاسکتے اور نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیروشر موجود ہے، سب کے لیے عام ہے۔
[5] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اُدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو پکارو‘‘ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمۡ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔﴿فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے‘‘ ﴿فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَمَوَالِيۡكُمۡ ﴾تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔﴿وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ فِيۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ﴾ ’’مگر‘‘ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ ’’جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔