Tafsir As-Saadi
33:13 - 33:27

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے: اے مدینے والو! نہیں ہے ٹھہرنے کی جگہ تمھارے لیے، پس لوٹ جاؤ تم اور اجازت مانگتا تھا ایک فریق ان میں سے نبی سے، وہ کہتے تھے :بے شک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ نہیں تھے وہ غیر محفوظ، نہیں چاہتے وہ مگر صرف بھاگنا(13) اوراگر داخل کر دیے جاتے ان پراطراف مدینہ سے (کافروں کے لشکر) پھر مطالبہ کیے جاتے وہ فتنے (شرک یا خانہ جنگی) کا، تو وہ ضرور اپنا لیتے اسے اور نہ توقف کرتے اس میں مگر تھوڑا ہی(14) اور البتہ تھے وہ کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس سے پہلے کہ نہیں پھیریں گے وہ پیٹھیں۔ اور ہے عہد اللہ کا کہ باز پرس کی جائے گی(اس کی بابت)(15) کہہ دیجیے!ہرگز نہیں نفع دے گا تم کو بھاگنا، اگر بھاگو تم موت سے یا قتل سے اور اس وقت نہیں فائدہ پہنچائے جاؤ گے تم مگر تھوڑا(16) کہہ دیجیے! کون ہے وہ جو بچائے تم کو اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمھارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ مہربانی کرنے کا؟ اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(17) تحقیق جانتا ہے اللہ روکنے والوں کو تم میں سے، اور کہنے والوں کو اپنے بھائیوں سے کہ آؤ ہماری طرف اور نہیں حاضر ہوتے وہ لڑائی میں مگر تھوڑی دیر ہی(18) اس حال میں کہ بخیل ہیں وہ تم پر ، پس جب آتا ہے(ان پر) خوف، تو دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھتے وہ آپ کی طرف، گھومتی ہیں ان کی آنکھیں مانند اس شخص کے کہ غشی طاری ہو اس پر موت کی، پھر جب دور ہو جاتا ہے خوف تو چڑھ چڑھ کر بولتے ہیں تم پر تیز تیز زبانوں سے، درآں حالیکہ حریص ہیں وہ مال (غنیمت) پر، یہی لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائے، پس ضائع کر دیے اللہ نے عمل ان کے، اور ہے یہ اوپر اللہ کے بہت آسان (19) وہ گمان کرتے ہیں لشکروں کو کہ (ابھی تک) نہیں گئے اور اگر آ جائیں لشکر، تو وہ خواہش کریں گے، کاش بے شک وہ ہوتے صحرا نشین دیہاتیوں (کے ساتھ رہنے والوں) میں، پوچھتے (رہتے) تمھاری بابت خبریں، اور اگر ہوتے وہ تمھارے اندر تو نہ لڑتے وہ مگر تھوڑا(20) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے اللہ کے رسول میں نمونہ اچھا، اس کے لیے جو ہے امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت (21) اور جب دیکھا مومنوں نے لشکروں کو تو کہا انھوں نے، یہ وہی ہے جس کا وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر ایمان اور فرماں برداری میں (22) کچھ مومنوں میں سے وہ لوگ ہیں کہ سچے ہو گئے وہ ( اس عہد میں) کہ عہد کیا تھا انھوں نے اللہ سے اس پر، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے پوری کر دی نذر اپنی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور نہیں تبدیلی کی انھوں نے (ذرا بھی) تبدیلی کرنا (23) تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور عذاب دے منافقوں کو اگروہ چاہے یا توجہ کرے (رحمت کے ساتھ) ان پر، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا نہایت مہربان (24) اور لوٹا دیا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ ان کے غصے کے نہیں حاصل کی انھوں نے کوئی بھلائی اور کافی ہو گیا اللہ مومنوں کو لڑائی سے اورہے اللہ بڑا طاقتور نہایت غالب (25) اور اتار دیا اس (اللہ) نے ان لوگوں کو، جنھوں نے مدد کی تھی ان (مشرکوں) کی اہل کتاب میں سے، ان کے قلعوں سے اور ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، ایک گروہ کوتم قتل کرتے تھے اور قید کرتے تھے تم ایک گروہ کو (26) اور وارث بنا دیا اس نے تمھیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا اور اس زمین کا کہ نہیں قدم رکھے تم نے (ابھی) اس میں اور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر (27)

[13]﴿وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی‘‘ یعنی منافقین کی جماعت، وہ جزع فزع اور قلت صبر کے بعد ایسے لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، انھوں نے خود صبر کیا نہ اپنے شر کی بنا پر لوگوں کو چھوڑا، لہٰذا اس گروہ نے کہا:﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ ﴾ ’’اے اہل یثرب!‘‘ اس سے ان کی مراد اہل مدینہ تھے۔ انھوں نے مدینہ کے نام کو چھوڑ کر وطن کے نام سے ان کو پکارا۔ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں دین اور اخوت ایمانی کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ جس چیز نے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کیا وہ ان کی طبعی بزدلی تھی۔ ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ ﴾ ’’اے اہل یثرب! (یہاں) تمھارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں۔‘‘ یعنی اس جگہ جہاں تم مدینہ سے باہر نکلے ہو۔ ان کا محاذ مدینہ منورہ سے باہر اور خندق سے ادھر تھا۔ ﴿فَارۡجِعُوۡا ﴾ مدینے کی طرف لوٹ جاؤ ، پس یہ گروہ جہاد سے علیحدہ ہو رہا تھا۔ ان پر واضح ہو گیا کہ ان میں دشمن کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں اور وہ انھیں لڑائی ترک کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ گروہ بدترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ گروہ تھا۔ ان کے علاوہ دوسرا گروہ وہ تھا جس کو بزدلی اور بھوک نے ستا رکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ صفوں سے کھسک کر چلے جائیں۔انھوں نے مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَسۡتَاۡذِنُ فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمُ النَّبِيَّ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُيُوۡتَنَا عَوۡرَةٌ ﴾ ’’اور ان کی جماعت یہ کہہ کر نبی(ﷺ) سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمارے گھر خطرے کی زد میں ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری عدم موجودگی میں دشمن ہمارے گھروں پر حملہ نہ کر دے، اس لیے ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم واپس جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں، حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ ﴿وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍ١ۛۚ اِنۡ يُّرِيۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴾ ’’حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف (جنگ سے) بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا قصد فرار کے سوا کچھ نہیں، مگر انھوں نے اس بات کو فرار کے لیے وسیلہ اور عذر بنا لیا۔ ان لوگوں میں ایمان بہت کم ہے اور امتحان کی سختیوں کے وقت ان کے اندر ثابت قدمی اور استقامت نہیں رہتی۔
[14]﴿وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ان پر داخل كیے جائیں (لشکر)‘‘ مدینہ میں ﴿مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ﴾ یعنی شہر کے ہر طرف سے کافر گھس آتے اور اس پر قابض ہو جاتے۔ ﴿ثُمَّ سُىِٕلُوا الۡفِتۡنَةَ ﴾ پھر ان کو فتنے کی طرف بلایا جاتا، یعنی دین سے پھر جانے اور فاتحین اور غالب لشکر کے دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ﴿لَاٰتَوۡهَا ﴾ تو یہ جلدی سے اس فتنے میں پڑ جاتے ﴿وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کے لیے بہت کم ٹھہرتے۔‘‘ یعنی دین کے بارے میں ان کے اندر قوت اور سخت جانی نہیں ہے، بلکہ اگر صرف دشمن کا پلڑا بھاری ہو جائے تو دشمن ان سے جو مطالبہ کرے یہ مان جائیں گے اور ان کے کفر کی موافقت کرنے لگ جائیں گے۔
[15] یہ ان کا حال ہے۔اور حال یہ ہے کہ ﴿عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ لَا يُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ١ؕ وَكَانَ عَهۡدُ اللّٰهِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’ انھوں نے اس سے قبل اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہوکر ہی رہے گی۔‘‘ عنقریب اللہ ان سے اس عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا، وہ ان کو اس حالت میں پائے گا کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑ چکے ہوں گے۔ تب ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا رب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
[16]﴿قُلۡ ﴾ ان کے فرار پر ان کو ملامت کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ چیز انھیں کچھ فائدہ نہ دے گی کہہ دیجیے: ﴿لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ ﴾’’اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمھارا بھاگنا تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔‘‘ پس اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تو وہ لوگ جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں پر پہنچ جاتے۔ اسباب اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب قضاوقدر ان کی معارض نہ ہو۔ جب تقدیر آ جاتی ہے تو تمام اسباب ختم ہو جاتے ہیں اور ہر وسیلہ باطل ہو کر رہ جاتا ہے جن کے بارے میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ نجات دیں گے۔﴿وَاِذًا ﴾ یعنی جب تم موت یا قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو جاؤ تاکہ تم دنیا میں نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ تو ﴿لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ تم بہت کم فائدہ اٹھا سکو گے جو تمھارے فرار ہونے، اللہ کے حکم کو ترک کرنے اور اپنے آپ کو ابدی فائدے اور سرمدی نعمتوں سے محروم کرنے کے برابر نہیں ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جب وہ بندے کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کر لے تو اسباب اس کے کسی کام نہیں آتے۔ ﴿قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَعۡصِمُكُمۡ﴾ ’’کہہ دیجیے: تمھیں کون بچا سکتا ہے؟‘‘ ﴿مِّنَ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَ بِكُمۡ سُوۡٓءًا ﴾ ’’اللہ سے اگر وہ تمھارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے۔‘‘ ﴿اَوۡ اَرَادَ بِكُمۡ رَحۡمَةً ﴾ ’’یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔‘‘ کیونکہ وہی عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، نقصان دینے والا اور نفع دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھلائی عطا کر سکتا ہے نہ کوئی برائی دور کر سکتا ہے۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سرپرستی کرے اور ان کو منفعت عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو ان کی مدد کر کے ان سے ضرر رساں چیزوں کو دور کر دے۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس ہستی کے سامنے سرتسلیم خم کریں جو ان تمام امور میں متفرد ہے جس کی مشیت پوری اور اس کی قضاوقدر نافذ ہو چکی ہے، اس کی ولایت اور اس کی نصرت کو چھوڑ کر کوئی والی اور کوئی مددگار کام نہیں آسکتا۔
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو اپنے ساتھیوں کو جنگ سے پسپائی پر اکساتے ہیں اور جنگ کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں، فرمایا:﴿قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الۡمُعَوِّقِيۡنَ۠ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو منع کرتے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں کو جہاد پر نکلنے سے روکتے ہیں جو ابھی جہاد کے لیے نہیں نکلے ﴿وَالۡقَآىِٕلِيۡنَ۠ لِاِخۡوَانِهِمۡ ﴾ اور اپنے ان بھائیوں کو جو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں:﴿هَلُمَّ اِلَيۡنَا ﴾ واپس لوٹ آؤ جیسا کہ ان کا قول گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے: ﴿يٰۤاَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَارۡجِعُوۡا ﴾(الاحزاب:33؍13) ’’اے یثرب کے لوگو! تمھارے لیے ٹھہرنے کا کوئی مقام نہیں اس لیے واپس لوٹ چلو۔‘‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جہاد سے باز رکھنے اور ان کو پسپائی پر اکسانے کے ساتھ ساتھ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ﴾ خود قتال اور جہاد کے لیے نہیں نکلتے ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر بہت تھوڑے۔‘‘ وہ ایمان اور صبر کے داعیے کے معدوم ہونے کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سب سے زیادہ حریص ہیں، نیز اس لیے بھی کہ ان کے اندر نفاق ہے اور ایمان معدوم ہے اور نفاق اور عدم ایمان بزدلی کا تقاضا کرتے ہیں۔
[19]﴿اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تمھارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔‘‘ یعنی لڑائی کے وقت اپنے بدن کو استعمال کرنے اور جہاد میں اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی جان اور مال کے ذریعے سے اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’پس جب خوف (کا وقت) آیا تو آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ اس آدمی کی طرح جس پر غشی طاری ہو ﴿مِنَ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’موت سے۔‘‘ یعنی سخت بزدلی کی وجہ سے، جس نے ان کے دلوں کو نکال پھینکا ہے، اس قلق کی بنا پر جس نے ان کو بے سدھ کر دیا ہے اور اس قتال سے خوف کے مارے جس پر انھیں مجبور کیا جا رہا ہے اور جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَوۡفُ ﴾ ’’پس جب خوف جاتا رہتا ہے‘‘ اور امن و اطمینان کی حالت میں ہوتے ہیں ﴿سَلَقُوۡؔكُمۡ بِاَلۡسِنَةٍ ﴾ ’’تو تمھارے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جب آپ لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہوتے۔ جب آپ ان کی باتیں سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت بہادر اور شجاعت مند ہیں۔ ﴿اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡرِ ﴾’’اور مال میں بخل کرتے ہیں‘‘ جو کہ ان سے مطلوب ہے۔ یہ انسان کا بدترین وصف ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اس کی تعمیل میں بخل سے کام لے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل کرے، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے اور اللہ کے راستے میں دعوت دینے میں اپنے بدن میں بخل کرے، اپنے جاہ میں بخیل ہو اور اپنے علم، خیرخواہی کرنے اور اپنی رائے میں بخیل ہیں۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ لوگ‘‘ جو اس حالت میں بھی ﴿لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’ایمان نہ لائے‘‘ تو ان کے عدم ایمان کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘ رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفس کے بخل سے محفوظ رکھا ہے۔ انھیں اپنی توفیق سے سرفراز فرمایا ہے، اس لیے انھیں جس چیز کے خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر اپنا بدن خرچ کرتے ہیں، بھلائی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنی جاہ اور اپنا علم خرچ کرتے ہیں۔
[20]﴿يَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ يَذۡهَبُوۡا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنۡ يَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿يَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّهُمۡ بَادُوۡنَ فِي الۡاَعۡرَابِ يَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۢۡبـَآىِٕكُمۡ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔‘‘ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔
[21]﴿لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ ’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ (ﷺ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ آپﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفیﷺ بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ ﷺ کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ ﷺ کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔’’اسوہ‘‘ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ ۔ پس رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ ﷺ کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ ’’أسوۃ سیئۃ‘‘ ہے ، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍23) ’’بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
[22] یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ﴾ ’’اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا‘‘ جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’وہ کہنے لگے :یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ١ؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ﴾(البقرۃ:2؍214) ’’کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔‘‘ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا‘‘ کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمۡ ﴾ ’’اور نہیں زیادہ کیاان کو‘‘ یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِيۡمَانًا ﴾ ’’مگر ایمان میں‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسۡلِيۡمًا﴾ ’’اور ماننے میں‘‘ یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔
[23] اللہ تعالیٰ نے جب منافقین کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں گے، مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد پورا کیا، فرمایا ﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کردکھایا‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور اپنے نفس کو اطاعت الٰہی کی راہ پر چلایا ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ﴾’’تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی باری پوری کرچکے۔‘‘ یعنی اس نے اپنا ارادہ پورا کر دیا اور اس پر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوا اور اس کے حق کو ادا کرتے ہوئے اپنی جان اس کے سپرد کر دی اور اس حق میں کچھ بھی کمی نہ کی۔﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ ﴾ اور کوئی اپنا عہد پورا کرنے کے لیے منتظر ہے، اس کے ذمہ جو عہد تھا وہ اس کو پورا کرنا شروع کر چکا ہے، وہ اس عہد کی تکمیل کی امید رکھتا ہے اور اس کی تکمیل میں کوشاں ہے۔ ﴿وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور انھوں اپنے رویے میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کی‘‘ جیسے دوسرے لوگ بدل گئے، بلکہ وہ اپنے عہد پر قائم ہیں وہ ادھر ادھر توجہ کرتے ہیں نہ بدلتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ مرد ہیں ان کے سوا دیگر لوگوں کی صورتیں اگرچہ مردوں کی سی ہیں، مگر ان کی صفات مردوں کی صفات سے قاصر ہیں۔
[24]﴿لِّيَجۡزِيَ اللّٰهُ الصّٰؔدِقِيۡنَ بِصِدۡقِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے‘‘ یعنی ان کے اقوال، احوال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معاملہ میں ان کے صدق اور ان کے ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ١ؕ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ﴾(المائدۃ:5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی، ان کے لیے جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، جہاں وہ ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے یہ آزمائشیں، مصائب اور زلزلے اپنے اندازے کے مطابق مقدر کیے تاکہ سچا جھوٹے سے واضح ہوجائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ راست بازوں کو ان کی راستی کی جزا دے ﴿وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور منافقوں کو عذاب دے‘‘ جن کے دل اور اعمال آزمائشوں کے نازل ہونے پر بدل گئے اور وہ اس عہد کو پورا نہ کر سکے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ﴿اِنۡ شَآءَ ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینا چاہے گا، یعنی وہ ان کو ہدایت دینا نہ چاہے گا، بلکہ اسے علم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اس لیے وہ ان کو توفیق سے نہیں نوازے گا۔﴿اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی وہ ان کو توبہ اور انابت کی توفیق سے نواز دے گا۔اس کریم کی کرم نوازی پر یہی چیز غالب ہے، اس لیے اس نے آیت کریمہ کو اپنے ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا ہے جو اس کی مغفرت، اس کے فضل و کرم اور احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے جب توبہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے، خواہ ان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ﴿رَّحِيۡمًا﴾ وہ ان پر نہایت مہربان ہے، کیونکہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق بخشی ، پھر ان کی توبہ قبول کی ، پھر ان کے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا۔
[25]﴿وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (نامراد) لوٹا دیا۔ انھوں نے کوئی فائدہ نہ پایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر لوٹا دیا اور انھیں وہ چیز حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ سخت حریص تھے، وہ غیظ و غضب سے بھرے ہوئے اور یقینی طور پر اپنے آپ کو فتح پر قادر سمجھتے تھے، اس لیے کہ ان کے پاس وسائل تھے، ان کی بڑی بڑی فوجوں نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا، ان کی جتھے بندیوں نے ان کو خودپسندی میں مبتلا کر دیا تھا، انھیں اپنی عددی برتری اور حربی سازوسامان پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت طوفانی ہوا بھیجی جس نے ان کے عسکری مراکز کو تلپٹ کر دیا، ان کے خیموں کو اکھاڑ دیا، ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا، ان کے حوصلوں کو توڑ دیا، ان پر رعب طاری کر دیا اور وہ انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ پسپا ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی نصرت تھی۔ ﴿وَكَفَى اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الۡقِتَالَ ﴾ ’’اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے معاملے میں کافی ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو عادی اور تقدیری (خرق عبادت) اسباب مہیا فرمائے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔‘‘ جو کوئی اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے، جو کوئی اس سے مدد مانگتا ہے اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے، وہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قوت و عزت سے اہل قوت و عزت کی مدد نہ کرے تو ان کی قوت و عزت انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
[26]﴿وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو اتارا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حملہ آوروں کی مدد کی ﴿مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اہل کتاب میں سے۔‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے قلعوں سے‘‘ یعنی انھیں اسلام کے حکم کے تحت مغلوب کر کے ان کے قلعوں سے نیچے اتارا ﴿وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ ﴾ ’’ اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ پس ان میں لڑنے کی قوت باقی نہ رہی اور وہ اطاعت تسلیم کرتے ہوئے سرنگوں ہو گئے۔ ﴿فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴾ تم لڑائی کے قابل مردوں کو قتل کر رہے تھے ﴿وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا﴾ اور ان مردوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا رہے تھے۔
[27]﴿وَاَوۡرَثَؔكُمۡ ﴾ ’’اور تمھیں وارث بنایا۔‘‘ یعنی تمھیں غنیمت میں عطا کیا ﴿اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ وَاَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡهَا ﴾ ’’ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال اور اس زمین کا جس کو تمھارے قدموں نے نہیں روندا۔‘‘ یعنی ایسی سرزمین جس پر تم اس کے مالکان کے نزدیک اس کی عزت و شرف کی بنا پر چل نہیں سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس زمین پر اور اس کے مالکوں پر اختیار عطا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مالکوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، تم نے ان کے اموال کو مال غنیمت بنایا، ان کو قتل کیا اور ان میں کچھ کو قیدی بنایا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی قدرت سے اس نے تمھارے لیے یہ سب کچھ مقدر کیا۔اہل کتاب کا یہ گروہ، یہودیوں میں سے بنوقریظہ کا قبیلہ تھا، جو مدینے سے باہر تھوڑے سے فاصلے پر آباد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے ساتھ امن اور دفاع کا معاہدہ کیا۔ آپ نے ان کے خلاف جنگ کی نہ انھوں نے آپ سے کوئی لڑائی لڑی اور وہ اپنے دین پر باقی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہ کی۔جنگ خندق میں، جب ان یہودیوں نے کفار کے لشکروں کو جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوتے دیکھا اور انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ کفار رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا استیصال کر دیں گے اور بعض یہودی سرداروں نے دجل و فریب کے ذریعے سے حملہ آوروں کی مدد کی، اس لیے اس معاہدے کو توڑنے کے مرتکب ہوئے جو ان کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان ہوا تھا اور انھوں نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے پر اکسایا۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کو ناکام و نامراد لوٹا دیا تو رسول اللہ ﷺ ان بدعہد یہودیوں کے خلاف جنگ کے لیے فارغ ہو گئے ، لہٰذا آپ نے ان کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذt کو ثالث تسلیم کر لیا۔ حضرت سعد بن معاذt نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور ان کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر اپنی نوازش اور عنایت کی تکمیل کی، ان پر اپنی نعمت پوری کی اور ان کے دشمنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کو قتل کر کے اور ان میں سے بعض کو قیدی بنا کر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے مومن بندوں کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا رہا ہے۔