اے نبی کی بیویو! جو کرے گی تم میں سے بے حیائی کھلی، تو دگنا دیا جائے گااسے عذاب دوہرا، اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان (30) اور جو فرماں برداری کرے تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور عمل کرے نیک تو دیں گے ہم اسے اس کا اجر دوبار، اور تیار کیا ہے ہم نے اس کے لیے رزق عزت کا(31)
[30] جب ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہو گی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوگنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔
[31]﴿وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡؔكُنَّ ﴾ یعنی تم میں جو کوئی اطاعت شعار ہو گی ﴿لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًا ﴾ ’’اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔‘‘ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت ﴿نُّؤۡتِهَاۤ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم اسے دگنا اجر دیں گے‘‘ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو اُن سے دوگنا اجر عطا کریں گے ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد جنت ہے، چنانچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کیے تو اس سے ان کا اجر و ثواب بھی معلوم ہوگیا۔