Tafsir As-Saadi
33:41 - 33:44

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو اللہ کویاد کرنا بہت زیادہ(41) اور تسبیح بیان کرو تم اس کی صبح و شام(42) وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کےفرشتے (رحمت کی دعا کرتے ہیں)تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ہے وہ مومنوں پربہت رحم کرنے والا(43) ان کی دعا ہو گی جس دن ملیں گے وہ اس (اللہ) کو، سلام اور تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے اجر عزت والا(44)

[41] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تہلیل و تحمید اور تسبیح و تکبیر وغیرہ کے ذریعے سے کہ جن میں سے ہر کلمہ تقرب الٰہی کا وسیلہ ہے نہایت کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں۔ قلیل ترین ذکر یہ ہے کہ انسان صبح شام اور نمازوں کے بعد کے اذکار کا التزام کرے نیز مختلف عوارض اور اسباب کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ تمام اوقات اور تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام کرے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے سے عمل کرنے والا آرام کرتے ہوئے بھی سبقت لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے، بھلائی پر مددگار ہے اور زبان کو گندی باتوں سے باز رکھتا ہے۔
[42]﴿وَّسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ اورصبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو کیونکہ صبح اور شام دونوں فضیلت کے حامل اوقات ہیں اور ان میں عمل کرنا بھی نہایت سہل ہوتا ہے۔
[43]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُصَلِّيۡ عَلَيۡكُمۡ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخۡرِجَكُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ وَكَانَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَحِيۡمًا ﴾ ’’وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِنِ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ١ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(المؤمن:40؍7-9) ’’اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔
[44] ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا:﴿تَحِيَّتُهُمۡ يَوۡمَ يَلۡقَوۡنَهٗ سَلٰمٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔‘‘