Tafsir As-Saadi
33:45 - 33:48

اے نبی! بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والااور ڈرانے والا(45) اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چراغ روشن (بنا کر)(46) اورخوشخبری دے دیجیے مومنوں کو، اس بات کی کہ بے شک ان کے لیے ہے اللہ کی طرف سے فضل بہت بڑا(47) اور نہ اطاعت کیجیے کافروں اور منافقوں کی اور نظر انداز کر دیجیے ان کی ایذا رسانی کو اور توکل کیجیے اللہ پر، اور کافی ہے اللہ کارساز(48)

[45] یہ صفات گرامی جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو موصوف کیا ہے، آپ کی رسالت کا مقصود و مطلوب اور اس کی بنیاد ہیں، جن سے آپ کو مختص کیا گیا اوروہ پانچ چیزیں ہیں:(۱)﴿شَاهِدًا ﴾ یعنی آپ کا اپنی امت کے اچھے اور برے اعمال پر گواہ ہونا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾(البقرہ:2؍143) ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾(النساء:4؍41)’’پس کیاحال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کو بلائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ کے طور پر طلب کریں گے۔‘‘(۳،۲)﴿مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ یہ مُبَشَّر اور مُنْذَر کے ذکر کو ، نیز جس چیزکی خوشخبری دی جائے اور جس سے ڈرایا جائے اور انذار وتبشیر والے اعمال کے ذکر کو مستلزم ہے۔ پس (اَلْمُبَشَّرُ) ’’جس کو خوشخبری دی گئی ہو‘‘ سے مراد اہل ایمان اور اہل تقویٰ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع اور معاصی کو ترک کیا ہے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ہر قسم کے دینی اور دنیاوی ثواب کی بشارت ہے جو ایمان اور تقویٰ پر مترتب ہوتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ یہ سب کچھ اعمال کی تفاصیل تقویٰ کے خصائل اور ثواب کی اقسام کے ذکر کو مستلزم ہے۔ (اَلْمُنْذَرُ) سے مراد مجرم، ظالم اور جاہل لوگ ہیں، جن کے لیے اس دنیا میں دینی اور دنیاوی عقوبات کے ذریعے سے ڈرانا ہے جو ظلم اور جہالت پر مترتب ہوتی ہیں اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہﷺ جو کتاب وسنت لائے ہیں یہ جملہ تفاصیل اسی پر مشتمل ہیں۔
[46](۴)﴿دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ آپ مخلوق کو ان کے رب کی طرف دعوت دیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا شوق پیدا کریں اور ان کو اس کی عبادت کا حکم دیں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ چیز ان امور پر استقامت کا تقاضا کرتی ہے جس کی دعوت دی گئی ہے اور یہ چیز ان کے اپنے رب کی، اس کی صفات مقدسہ کے ذریعے سے معرفت اور جو صفات اس کے جلال کے لائق نہیں ان صفات سے اس کی ذات مقدس کی تنزیہ جیسے امور کی تفاصیل کا تذ کرہ ہے جن کی طرف انھیں دعوت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عبودیت کی مختلف انواع کا ذکر کیا، قریب ترین راستے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، ہر حق دار کو اس کا حق عطا کرنا، دعوت الیٰ اللہ اپنے نفس کی تعظیم کے لیے نہ ہو بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جیسا کہ اس مقام پر بہت سے نفوس کو کبھی کبھی یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔(۵)﴿سِرَاجًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’روشن چراغ‘‘ یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ تمام مخلوق بہت بڑی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ تھی جس سے راہ نمائی حاصل کی جا سکتی، نہ کوئی علم تھا کہ اس جہالت میں کوئی دلیل مل سکتی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کریمﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کا پردہ چاک کر دیا، آپ کے ذریعے سے جہالتوں کے اندھیروں میں علم کی روشنی پھیلائی اور آپ کے ذریعے سے گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔پس اہل استقامت کے لیے راستہ واضح ہو گیا اور وہ اس راہنما(ﷺ)کے پیچھے چل پڑے۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے خیروشر، اہل سعادت اور اہل شقاوت کو پہچان لیا۔ انھوں اپنے رب کی معرفت کے لیے اس سے روشنی حاصل کی اور انھوں نے اپنے رب کو اس کے اوصاف حمیدہ، افعال سدیدہ اور احکام رشیدہ کے ذریعے سے پہچان لیا۔
[47]﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَضۡلًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے! ان کے لیے اللہ کے طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘ اس جملے میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو خوشخبری دی گئی ہے اور وہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہیں ایمان کو مفرد طور پر ذکر کیا جائے تو اس میں عمل صالح داخل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا جن کی خوشخبری دی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا اور جلیل القدر فضل، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، مثلاً: اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت، ہدایتِ قلوب، گناہوں کی بخشش، تکلیفوں کا دور ہونا، رزق کی کثرت اور ارزانی، خوش کن نعمتوں کا حصول، اپنے رب کی رضا اور اس کے ثواب کے حصول میں کامیابی اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات... یہ وہ امور ہیں جن کے ذکر سے عمل کرنے والوں کو نشاط حاصل ہوتا ہے، جن سے وہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں مدد لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جیسا کہ یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ وہ ترہیب کے مقام پر عقوبتوں کا ذکر کرتا ہے جو ان افعال پر مترتب ہوتی ہیں جن سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ ترہیب ان امور سے باز رہنے میں مدد دے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔
[48] لوگوں میں سے ایک گروہ، دعوت الیٰ اللہ کا کام کرنے والے انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کی راہ روکنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ یہ وہ منافق ہیں جو ایمان کا اظہار کرتے ہیں جبکہ باطن میں درحقیقت کافر اور فاجر ہوتے ہیں اور وہ کفار ہیں جو ظاہر اور باطن میں کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کی اطاعت کرنے سے روکا ہے اور ان کے برے منصوبوں سے ہوشیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔‘‘ یعنی کسی بھی ایسے معاملے میں ان کی بات نہ مانیں جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے۔ یہ بات ان کو اذیت دینے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ حکم یہ ہے کہ آپ ان کی اطاعت نہ کیجیے۔ ﴿وَدَعۡ اَذٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں اذیت پہنچانے کو ترک کردیں۔‘‘ کیونکہ یہ چیز ان کو قبول اسلام کی طرف بلاتی ہے، آپ کو اور آپ کے گھر والوں کوبہت سی اذیتوں سے بچاتی ہے۔ ﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ اپنے کام کی تکمیل اور اپنے دشمن کے خذلان میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ بڑے بڑے امور اس کے سپرد کیے جاتے ہیں وہ ان کا انتظام کرتا ہے اور انھیں اپنے بندے کے لیے آسان کر دیتا ہے۔