Tafsir As-Saadi
33:59 - 33:62

اے نبی! کہہ دیجیے: اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ لٹکا لیا کریں وہ اپنے اوپر اپنی چادریں، یہ (بات) زیادہ قریب ہے اس کےکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ وہ ایذا پہنچائی جائیں، اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(59) البتہ اگر نہ باز آئے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے مدینے میں، تو ضرور ہم مسلط کر دیں گے آپ کو ان پر، پھر نہ وہ پاس رہ سکیں گے آپ کے اس (مدینے) میں، مگر تھوڑی مدت(60) دھتکارے ہوئے، جہاں بھی وہ پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور قتل کر دیے جائیں (بری طرح سے) قتل کیا جانا(61)(یہ) طریقہ ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گزر گئے اس سے پہلے، اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی(62)

[59] اس آیت کریمہ کو ’’آیت حجاب‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ تمام عورتوں کو عمومی طور پر پردے کا حکم دیں اور اس کی ابتدا اپنی ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کریں کیونکہ دوسروں کی نسبت، ان کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ نیز کسی معاملے میں دوسروں کو حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنے گھر سے ابتدا کرے جیسا کہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾(التحریم:66/6) ’’اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ ﴿يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ۠﴾ ’’وہ اپنی چادریں اوڑھ کر گھونگٹ نکال لیا کریں۔‘‘ (جلباب) وہ کپڑا ہے جو عام لباس کے اوپر اوڑھ لیا جاتا ہے ، مثلاً: دوپٹا، اوڑھنی اور چادر وغیرہ، یعنی چادر وغیرہ سے اپنے چہروں اور سینوں کو ڈھانپ لیا کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ﴾ ’’یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہیں دے گا۔‘‘ آیت کریمہ کا یہ جملہ عدم حجاب کی صورت میں وجود اذیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر وہ پردہ نہیں کریں گی تو بسااوقات ان کے بارے میں کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ پاک باز عورتیں نہیں ہیں اور کوئی بدکردار شخص، جس کے دل میں مرض ہے، آگے بڑھ کر تعرض کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ ان کی اہانت بھی ہو سکتی ہے۔ شرارت پسند شخص ان کو لونڈیاں سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے، اس لیے حجاب بدطینت لوگوں کی لالچ بھری نظروں سے بچاتا ہے۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس نے تمھارے گزشتہ گناہ بخش دیے اور تم پر رحم فرمایا کہ اس نے تمھارے لیے احکام بیان فرمائے، حلال اور حرام کو واضح کیا۔ یہ عورتوں کی جہت سے برائی کا سدباب ہے۔
[60، 61] رہا شریر لوگوں کے شر کا سدباب، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اگر باز نہ آئیں وہ لوگ جو منافق ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے۔‘‘ یعنی شک اور شہوت کا مرض ﴿وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور جو مدینے میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو ڈراتے، اپنی کثرت و قوت اور مسلمانوں کی کمزوری کا ذکر کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل کا ذکر نہیں فرمایا جس کے بارے میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس سے باز آ جائیں تاکہ یہ اپنے عموم کے ساتھ ان تمام برائیوں سے رک جائیں جن پر انھیں ان کے نفس اکساتے، وسوسہ پیدا کرتے اور شر کی طرف انھیں دعوت دیتے رہتے ہیں، مثلاً: اسلام اور اہل اسلام پر سب و شتم کرنا، مسلمانوں کے بارے میں بری افواہیں پھیلانا، ان کی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا، مومن خواتین کے ساتھ برائی اور فحش رویے سے پیش آنا اور دیگر گناہ جو ان جیسے بدکردار لوگوں سے صادر ہوتے ہیں۔ ﴿لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ﴾ ہم آپ کو انھیں سزا دینے اور ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیں گے اور آپ کو ان پر تسلط اور غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ان میں آپ کا مقابلہ کرنے اور آپ سے بچنے کی قوت اور طاقت نہ ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی وہ مدینہ منورہ میں بہت کم آپ کے ساتھ رہ سکیں گے، آپ ان کو قتل کردیں گے یا شہر بدر کردیں گے۔آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ان شرپسندوں کو، جن کے مسلمانوں کے اندر قیام سے مسلمانوں کو ضرر کا اندیشہ ہو، شہر بدر کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے بہتر طور پر برائی کا سدباب ہو سکتا ہے اور برائی سے دور رہا جا سکتا ہے ﴿مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا﴾ ’’ان پر پھٹکار برسائی گئی جہاں بھی وہ مل جائیں پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔‘‘ یعنی جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے انھیں امن حاصل ہو گا نہ قرار، انھیں ہمیشہ قتل، قید اور عقوبتوں کا دھڑ کا لگا رہے گا۔
[62]﴿سُنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کی یہی سنت رہی ہے۔‘‘ یعنی جو نافرمانی میں بڑھتا چلا جاتا ہے، ایذا رسانی کی جسارت کرتا ہے اور اس سے باز نہیں آتا، اسے سخت سزا دی جاتی ہے ﴿وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا ﴾ ’’اور البتہ آپ اللہ کی سنت میں کوئی تغیر و تبدل نہیں پائیں گے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب اور اس کے مسببات کے ساتھ جاری و ساری پائیں گے۔