Tafsir As-Saadi
33:63 - 33:68

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68)

[63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘
[66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔
[67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘
[68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔