Tafsir As-Saadi
33:72 - 33:73

بلاشبہ ہم نے پیش کی (اپنی) امانت اوپر آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے، تو انھوں نے انکار کر دیا اس کے اٹھانے سے اور ڈر گئے وہ اس سے اور اٹھا لیا اس (امانت) کو انسان نے، یقیناً تھا وہ بڑا ظالم اور بہت جاہل(72) تاکہ عذاب دے اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور توجہ (رحم) فرمائے اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(73)

[72] اللہ تبارک وتعالیٰ اس امانت کی عظمت بیان کرتا ہے جو اس نے مکلفین کے سپرد کی۔ اس امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور کھلے چھپے تمام احوال میں محارم سے اجتناب کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو بڑی بڑی مخلوقات، آسمان، زمین اور پہاڑوں وغیرہ کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا کہ اگر تم اسے قائم کروگے اور اس کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو تمھارے لیے ثواب ہے اور اگر تم اس کو قائم کر سکے نہ اسے ادا کر سکے تو تمھیں عذاب ملے گا۔ ﴿فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا ﴾ یعنی انھوں نے اس خوف سے اس امانت کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا کہ وہ اس امانت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے طور پر نہ تھا، اور نہ اس کے ثواب میں بے رغبتی کے سبب سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو، اسی شرط کے ساتھ، انسان کے سامنے پیش کیا، اس نے اسے قبول کر کے اس کا بار اٹھا لیا، اس نے اپنی جہالت اور ظلم کے باوصف اس بھاری ذمہ داری کو قبول کر لیا۔
[73]لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں:(۱)منافقین: جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔(۲)مشرکین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کر دیا ہے۔(۳) مومنین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بے پایاں رحمت اور لامحدود جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔