Tafsir As-Saadi
34:1 - 34:2

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے ہیں سب تعریفیں آخرت میں (بھی) اور وہ نہایت حکمت والا خوب خبردار ہے(1) وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اورجونکلتا ہے اس میں سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ نہایت رحم کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے(2)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعے سے، ثنا بیان کرنا ہے پس ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پرمستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پرمبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پرمبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے‘‘ یعنی ہرچیز کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد وثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿وَلَهُ الۡحَمۡدُ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔‘‘ اس لیے کہ آخرت میں اس کی وہ حمد وثنا ظاہر ہو گی جو دنیا میں ظاہر نہیں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور تمام انسان اور تمام مخلوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد وثنا بیان کریں گے حتیٰ کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہو گا کہ یہ عذاب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بے شمار خیروبرکت اور اس کی بے پایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ اہل جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کر دیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہو گی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور ان کے دل میں ان کا تصور تک نہیں آ سکتا۔ اس حال میں ان کی حمد وثنا کیسی ہو گی، درآں حالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد وثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا۔ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محظوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لیے ذکر کی وہ حیثیت ہو گی جیسے ہر وقت سانس کی۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کامل حمد وثنا کی موجب ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ ﴿الۡخَبِيۡرُ ﴾ وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے۔
[2] لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے‘‘ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا ﴾ ’’اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔‘‘ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے‘‘ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔