اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5)
[3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔