Tafsir As-Saadi
34:43 - 34:45

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)

[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔
[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔