البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔