اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔