اے لوگو! بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈالے تم کو زندگی دنیا کی اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کی بابت بڑا دھوکے باز (شیطان)(5) بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے، پس بناؤ تم اس کو دشمن ہی (اطاعت الٰہی کر کے) بلاشبہ وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو، تاکہ ہوں وہ اہل جہنم سے(6) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے ہے عذاب سخت، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہے مغفرت اور اجر بہت بڑا(7)
[5، 6]﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ ﴿حَقٌّ ﴾ ’’حق ہے۔‘‘ یعنی اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، اس پر تمام دلائلِ نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لیے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو کوئی راہزن تمھاری راہ کو کھوٹی نہ کرنے پائے۔ ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے‘‘ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمھیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور نہ فریب دینے والا تمھیں فریب دے۔‘‘ جو کہ ﴿الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’شیطان ہے۔‘‘ وہ حقیقت میں تمھارا دشمن ہے ﴿فَاتَّؔخِذُوۡهُ عَدُوًّا ﴾ ’’لہٰذا تم بھی اُسے دشمن جانو‘‘ یعنی تمھاری طرف سے اس کے لیے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمھیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمھاری گھات میں رہتا ہے۔ ﴿اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بلاشبہ وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔‘‘ یہی اس کی غرض و غایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذاب کے ذریعے سے رسوائی ہو۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا ﴾ پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے‘‘ اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔