اور نہیں برابر دو دریا، یہ ایک میٹھا خوب میٹھا آسان ہے اس کا پینا اور یہ ایک (دوسرا) کھارا سخت کڑوا، اور ہر ایک میں سے کھاتے ہو تم گوشت تازہ اورنکالتے ہو تم زیور کہ پہنتے ہو تم انھیں اور دیکھیں گے آپ کشتیوں کو اس (دریا) میں پھاڑتی ہوئی (چلتی ہیں) پانی کو، تاکہ تلاش کرو تم اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر کرو(12) داخل کرتا ہے وہ (اللہ) رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے اس نے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، یہ ہے اللہ، تمھارا رب ، اسی کی ہے بادشاہی، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اس (اللہ) کے سوا، نہیں اختیار رکھتے وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر والے چھلکے کا بھی(13) اگر پکارو تم ان کو تو نہیں سنیں گے وہ تمھاری پکار کو، اوراگر وہ سن بھی لیں تو نہیں جواب دیں گے وہ تمھیں، اور دن قیامت کے وہ انکار کر دیں گے تمھارے (اس) شرک کا، اور نہیں خبر دے گا آپ کو (کوئی) مانند (اللہ) خوب خبر دار کے(14)
[12] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے پایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لیے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیق فرمائے، ان کو ایک سا نہیں بنایا، کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤ ں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتیوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں فرمایا:﴿وَمِنۡ كُلٍّ ﴾ یعنی کھاری پانی اور میٹھے پانی کے ذخیرے میں سے ﴿تَاۡكُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِيًّا ﴾ ’’تم تازہ گوشت کھاتے ہو‘‘ اس سے مراد مچھلی ہے، جس کا شکار سمندر میں بہت آسان ہے۔ ﴿وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡنَ۠ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَا ﴾ ’’اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔‘‘ یعنی موتی اور مونگے وغیرہ، جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بندوں کے لیے عظیم مصالح ہیں۔سمندر کے فوائد اور مصالح میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشتیوں کے لیے مسخر کیا۔ تم انھیں دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک تک اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلتی ہیں، مسافر ان کشتیوں اور جہازوں پر بھاری بوجھ اور اپنا سامان تجارت لادتے ہیں۔ پس اس طرح انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
[13] ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے جب ان میں سے کوئی ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے کبھی ایک میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو دوسرے میں اضافہ اور کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں اور اس سے بندوں کے اجسام، ان کے حیوانات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں۔اسی طرح سورج اور چاند کی تسخیر میں روشنی اور نور، حرکت اور سکون کے مصالح حاصل ہوتے ہیں، سورج کی روشنی میں بندے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پھل پکتے ہیں اور دیگر ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کے فقدان سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ ﴿كُلٌّ يَّجۡرِيۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔‘‘ یعنی چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو گی۔ جب وقت مقررہ آ جائے گا اور دنیا کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ پہنچے گا تو ان کی طاقت سلب کر لی جائے گی، چاند بے نور ہو جائے گا، سورج کو روشنی سے محروم کر دیا جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ان عظیم مخلوقات میں جو عبرتیں اللہ تعالیٰ کے کمال اور احسان پر دلالت کرتی ہیں، ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ لَهُ الۡمُلۡكُ ﴾ ’’یہ ہے اللہ، تمھارا رب، اسی کے لیے بادشاہی ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو ان بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق اور تسخیر میں متفرد ہے وہی رب، الٰہ اور مستحق عبادت ہے، جو تمام اقدار کا مالک ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور اس کے سوا جنھیں تم پکارتے ہو۔‘‘ یعنی تم جن بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو پوجتے ہو ﴿مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ﴾ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز کے مالک نہیں حتی کہ وہ اس معمولی چھلکے کے بھی مالک نہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے جو حقیر ترین چیز ہے۔ یہ (ان کی الوہیت کی) نفی اور اس کے عموم کی تصریح ہے۔ ان خود ساختہ معبودوں کو کیسے پکارا جاسکتا ہے حالانکہ وہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کسی چیز کے بھی مالک نہیں؟
[14] اس کے ساتھ ساتھ ﴿اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’اگر تم ان کو پکارو‘‘ تو وہ تمھاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ سَمِعُوۡا ﴾ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں ﴿مَا اسۡتَجَابُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تمھاری بات قبول نہیں کریں گے۔‘‘ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنابریں فرمایا: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾ ’’اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍41) ’’تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔‘‘ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ﴾ یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم و خبیر سے زیادہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لیے آپ کو اس بارے میں قطعی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔