Tafsir As-Saadi
35:15 - 35:18

اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)

[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔