اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘