Tafsir As-Saadi
35:31 - 35:35

اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)

[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)