Tafsir As-Saadi
36:13 - 36:32

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32)

[13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔
[14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘
[15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘
[16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔
[17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔
[18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘
[19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔
[20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔
[21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔
[25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘
[26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔
[29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔
[30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔
[31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘