اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40)
[37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘
[38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔
[39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔
[40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔