اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54)
[51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔
[52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔
[53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔
[54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔