Tafsir As-Saadi
37:1 - 37:11

قسم ہے صف بنانےوالے (فرشتوں) کی قطار باندھ کر(1) پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر(2) پھر قرآ ن پڑ ھنے والوں کی (3)بلاشبہ تمھارا معبود البتہ ایک ہے (4)(وہی ہے) رب آسمانوں ا ور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے اور رب (تمام) مشرقوں کا (5) بے شک ہم نے زینت دی آسمانِ دنیا کو ایک آرائش ( یعنی ) ستاروں سے(6) اور حفاظت کے لیے ہر شیطان سرکش سے(7)(تاکہ) نہ سن پائیں وہ (باتیں ) عالم بالا کی اور پھینکے جاتے ہیں (شہاب ان پر) ہر جانب سے (8)(ان کو) بھگانے کے لیے، اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا (9) مگر جو اچک لے (شیطان) جھٹ تو پیچھے لگتا ہے اس کے ستارہ چمکتا ہوا (10) پس پوچھیے ان سے، کیا وہ زیادہ سخت ہیں پیدائش میں یا وہ جن کو پیدا کیا ہم نے؟ بے شک پیدا کیا ہم نے ان (انسانوں) کو چپکتی مٹی سے (11)

[4-1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادات میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنات کی تدبیر میں مصروف ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَالصّٰؔٓفّٰتِ صَفًّا﴾ ’’قسم ہے صف باندھنے والوں کی‘‘ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ﴿فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا﴾ ’’ پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر۔‘‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈانٹتے ہیں۔ ﴿فَالتّٰلِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ ’’ پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت پر ان کی قسم کھائی ہے۔ ﴿اِنَّ اِلٰهَكُمۡ لَوَاحِدٌ﴾ ’’یقینا تم سب کا معبودایک ہی ہے۔‘‘ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ،اس لیے خالص اسی سے محبت کرو، صرف اسی سے ڈرو، صرف اسی کو اپنی امیدوں کا محور بناؤ اور عبادات کی تمام اقسام صرف اسی کے لیے مختص کرو۔
[5]﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ الۡمَشَارِقِ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مخلوقات کا خالق، رازق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ پس جس طرح کوئی ہستی اس کی ربوبیت میں شریک نہیں، اسی طرح اس کی الوہیت میں بھی شریک نہیں۔ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے توحید الوہیت کو توحید ربوبیت کے ساتھ مقرون بیان فرمایا ہے کیونکہ توحید ربوبیت توحید الوہیت پر دلالت کرتی ہے۔ مشرکین بھی توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں ،اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ اسی چیز ہی کو دلیل بناتا ہے جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مشرق کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ مغرب پر دلالت کرتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام ستارے مشرق سے طلوع ہوتے ہیں جیسا کہ اس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔اس لیے فرمایا:
[9-6]﴿اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِزِيۡنَةِنِ الۡكَوَاكِبِۙ۰۰ وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍۚ ۰۰ لَا يَسَّمَّعُوۡنَ اِلَى الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰى ﴾’’ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنا دیا ۔وہ عالم بالا کے فرشتوں کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو عظیم فائدوں کے لیے ستاروں کا ذکر فرمایا ہے۔(۱)آسمان کی زینت کے لیے۔ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان میں کوئی روشنی نہ ہوتی اور آسمان میں تاریکی چھائی رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا تاکہ وہ اپنے کناروں تک منور رہے اور وہ خوبصورت دکھائی دے اور بحروبر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستہ تلاش کیا جائے، نیز اس سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔(۲) تمام سرکش شیاطین سے حفاظت کے لیے۔ جو اپنی سرکشی کی بنا پر مَلَأِاَعْلٰی کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مَلَأِاَعْلٰی) سے مراد اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔جب وہ مقرب فرشتوں سے سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں۔ ﴿مِنۡ كُلِّ جَانِبٍ﴾ یعنی ہر جانب سے انھیں دھتکارا جاتا ہے اور مقرب فرشتوں کی باتیں سننے سے ان کو دور رکھا جاتا ہے۔ ﴿وَّلَهُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ﴾ اور اپنے رب کی اطاعت سے سرکشی کی بنا پر ان کے لیے دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔
[10] اگر اللہ تعالیٰ نے استثنا نہ کیا ہوتا تو یہ آیت اس بات کی دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی سن گن لینے پر قادر نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَةَ ﴾ یعنی سوائے ان سرکش شیاطین کے، جو کوئی ایک آدھ بات سن لینے اور چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ﴿فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴾ تو اپنے اولیاء تک پہنچنے سے پہلے پہلے شہاب ثاقب انھیں جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر منقطع ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی شہاب ثاقب کے پہنچنے سے قبل اپنے اولیاء کو خبر جا پہنچاتا ہے وہ اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے شامل کرتے ہیں اور اس ایک بات کے سبب جو انھوں نے آسمان سے سنی تھی، اس جھوٹ کو رائج کرتے ہیں۔
[11] اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ اپنے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرنے والوں سے پوچھیے۔ ﴿اَهُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا ﴾ ’’کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے۔‘‘ یعنی ان کی موت کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنا مشکل اور مشقت والا ہے ﴿اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ﴾ یا ان مخلوقات کو وجود میں لانا مشکل ہے جن کو ہم نے تخلیق کیا۔انھیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، لوگوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے۔ تب ان پر حیات بعدالموت کا اقرار لازم آئے گا بلکہ اگر وہ اپنے آپ پر غور کریں تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ چکنی مٹی سے ان کی تخلیق کی ابتدا، موت کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ لَّازِبٍ ﴾ ’’ہم نے انھیں چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔‘‘ یعنی طاقتور اور سخت مٹی سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ﴾(الحجر: 15؍26) ’’ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔‘‘