بلکہ آپ نے تعجب کیاجبکہ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں (12) اور جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں تو نہیں نصیحت قبول کرتے (13) اور جب دیکھتے ہیں وہ کوئی نشانی تو مذاق اڑاتے ہیں (14) اور وہ کہتے ہیں: نہیں ہے یہ مگر جادو صریح (15) کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں تو کیا ہم بے شک البتہ اٹھائے جائیں گے (16)کیا ہمارے پہلے باپ دادے بھی؟ (17) کہہ دیجیے: ہاں ! اور ہو گے تم ذلیل و خوار (18) پس وہ ہو گی ایک زور کی آواز ہی، پھر یکایک وہ (زندہ ہو کر) دیکھتے ہوں گے(19) اور وہ کہیں گے: ہائے افسوس ہمارے لیے ! یہ ہے دن جزا کا (20) یہی ہے دن فیصلے کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (21)
[12]﴿بَلۡ عَجِبۡتَ ﴾ اے رسول! یا اے انسان! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کر چکے ہیں۔ حیات بعدالموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ وہ ﴿يَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تمسخر اڑاتے ہیں‘‘ اس شخص کا جو حیات بعدالموت کی خبر لایا ہے۔ انھوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔
[13]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ﴿اِذَا ذُكِّرُوۡا ﴾ ’’جب انھیں (اس چیز) کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے‘‘ جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے ﴿لَا يَذۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تو وہ توجہ نہیں کرتے۔‘‘ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کندذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
[14] نیز یہ بھی تعجب خیز ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے دلائل بیان کیے جاتے ہیں اور ایسی نشانیوں کے ذریعے سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے جن کے سامنے بڑے بڑے عقل مند لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں تو یہ لوگ ان دلائل اور نشانیوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
[15] جب ان کے پاس حق آ گیا تو حق کے بارے میں ان کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے ﴿اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ تو محض جادو ہے‘‘ پس انھوں نے اعلیٰ ترین اور جلیل ترین چیز کو خسیس اور حقیر ترین چیز کے مرتبے پر گردانا۔
[16، 17] نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انھوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدرت کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کر لیا، چنانچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَۙ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پہلے آباء واجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[18] جب ان کی غرض و غایت کی یہ انتہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کو ایسا جواب دیں جو ان کی ترہیب پر مشتمل ہو ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ نَعَمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے ہاں!‘‘ تمھیں اور تمھارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ﴿وَاَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ﴾ اور تم اس وقت نہایت ذلیل اور بے بس ہو گے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے دشوار ہو گے نہ اس کی نافرمانی کر سکو گے۔
[19]﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ایک زور کی آواز ہوگی۔‘‘ یعنی اسرافیل صور پھونکے گا ﴿فَاِذَا هُمۡ ﴾ ’’تو یکایک وہ‘‘ اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ﴿يَنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے‘‘ جس طرح ابتدا میں تخلیق کیا گیا تھا، اسی طرح ان کو ان کے تمام اجزاء سمیت، ننگے پاؤ ں، عریاں اور غیر مختون کھڑا کیا جائے گا۔
[20] اس حالت میں وہ سخت ندامت کا اظہار کریں گے، انھیں سخت رسوائی اور خسارے کا سامنا ہو گا۔اس وقت وہ اپنی ہلاکت اور موت کو پکاریں گے۔ ﴿وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰؔذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور کہیں گے، ہائے افسوس یہی جزا کا دن ہے۔‘‘ یعنی یہ اعمال کی جزا کے لیے یوم حساب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کا اقرار کریں گے جن کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔
[21] ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴾ یعنی یہ رب اور بندے کے درمیان ان کے حقوق کے بارے میں اور بندوں کے درمیان ان کے آپس کے حقوق کے بارے میں فیصلے کا دن ہے۔