سوائے اللہ کے بندوں کے جو چنے ہوئے ہیں(40) یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے رزق معلوم (41) میوے (جنت کے) اور وہ معزز ہوں گے (42) باغوں میں نعمت کے (43) اوپر تختوں کے ایک دوسرے کے سامنے (44) پھرایا جائے گا ان پر (شراب کا) بھرا جام جاری چشمے سے (45) سفید لذت(والی) پینے والوں کے لیے (46) نہ ہوگا اس میں(اس سے) سر کا چکرانا اور نہ وہ اس سے مدہوش ہوں گے (47) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیاں بڑی آنکھوں والیاں (48) گویا کہ وہ (شتر مرغ کے) انڈے ہیں پردے میں چھپا کر رکھے ہوئے(49)
[40]﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیدہ بندے‘‘ بے شک وہ دردناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انھوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کر لیا، ان کو اپنی رحمت کے لیے مختص کیا اور انھیں اپنے لطف و کرم سے نوازا۔
[41، 42]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے رزقِ معلوم ہے۔‘‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہو گا یہ رزق بہت عظیم اور جلیل القدر ہو گا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جا سکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَوَاكِهُ ﴾ یعنی تمام اقسام کے پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں گے، جو اپنے رنگ اور ذائقے میں نہایت مزے دار ہوں گے۔ ﴿وَهُمۡ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ یعنی ان کی اہانت کی جائے گی نہ ان سے حقارت سے پیش آیا جائے گا بلکہ ان کی عزت، تعظیم اور توقیر کی جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کی تکریم کریں گے، مکرم فرشتے ان کی تکریم کریں گے، وہ جنت کے ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور بہترین ثواب کے ذریعے سے ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ سب سے معزز اور باوقار ہستی انھیں اکرام بخشے گی اور انھیں انواع و اقسام کی تکریم سے نوازے گی جس میں قلب و روح اور بدن کے لیے نعمت ہوگی۔
[43]﴿فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’نعمت کے باغوں میں‘‘ یعنی وہ جنتیں جو نعمت اور سرور سے متصف ہیں کیونکہ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں جمع ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ وہ خلل انداز ہونے والے ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہوں گے۔
[44] ان کے رب کے ہاں ان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہو گی کہ وہ ایک دوسرے کا اکرام کریں گے۔ بے شک وہ ﴿سُرُرٍ ﴾ ’’تختوں‘‘ پر ہونگے۔ یہ بلند بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی جو خوبصورت اور منقش کپڑوں سے آراستہ کی گئی ہوں گی، اہل ایمان راحت، اطمینان اور فرحت کے ساتھ وہاں تکیے لگا کر بیٹھیں گے ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔‘‘ ان کے دل ہر قسم کی کدورت سے پاک ہوں گے، ان کی آپس کی محبت پاک ہو گی اور وہ اس اجتماع پر آپس میں خوش ہوں گے کیونکہ چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا، دلوں کے ایک دوسرے کے سامنے ہونے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیریں گے نہ پہلوتہی کریں گے بلکہ وہاں کامل ادب اور سرور ہو گا جس پر چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا دلالت کرتا ہے۔
[47-45]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾ چاق چوبند اور مستعد لڑکے ان کی خدمت میں خوبصورت جاموں میں مشک کے ساتھ مہرشدہ لذیذ مشروبات لیے آ جا رہے ہوں گے، یہ جام، شراب کے جام ہوں گے۔ یہ شراب ہر لحاظ سے دنیا کی شراب سے مختلف ہوگی۔ اس کا رنگ ﴿بَيۡضَآءَ ﴾ ’’سفید‘‘ اور بہترین رنگ ہوگا اس کے ذائقے میں ﴿لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ﴾ ’’پینے والوں کے لیے لذت ہو گی۔‘‘ اہل جنت پیتے وقت اور پینے کے بعد لذت محسوس کریں گے۔ یہ شراب ہر قسم کے برے اثرات سے پاک ہوگی۔ اس سے ان کی عقل خراب ہو گی نہ مال خراب ہو گا اور اس سے سر چکرائے گا نہ طبیعت مکدر ہو گی۔
[49,48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لیے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہو اور ان کے اندر ان نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔ اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌ﴾’’اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔‘‘ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی... اس لیے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب نہ ہو گا اور نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی... یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انھی پر مرتکز ہوں گی یہ چیز ان کے کامل اور بے انتہا حسن وجمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔ آیت کریمہ میں ان دو معنوں کا احتمال ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہو گا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کر دیے جائیں گے۔﴿عِيۡنٌ ﴾ یعنی وہ خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت نگاہوں والی ہوں گی۔ ﴿كَاَنَّهُنَّ ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘یعنی حوریں ﴿بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ ’’چھپایا ہوا انڈہ ہیں‘‘ یہ تشبیہ ان کے حسن، ان کے رنگ کی بے انتہا خوبصورتی اور اس کی تازگی کی بنا پر دی گئی ہے، اس میں کسی قسم کی کدورت اور میلاپن نہ ہو گا۔