Tafsir As-Saadi
37:50 - 37:61

پس متوجہ ہوگا بعض ان کا اوپر بعض کے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے (50) کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے، بے شک تھا میرا ایک ہم نشین (51) وہ کہتا تھا: کیا بے شک ہے تو البتہ تصدیق کرنے والوں میں سے (اس بات کی کہ)(52)کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہڈیاں، کیا بے شک ہم البتہ بدلہ دیے جائیں گے؟ (53) وہ کہے گا، کیا تم (جہنم میں) جھانک کر دیکھو گے؟ (54) پس وہ جھانکے گا اور دیکھے گا اسے درمیان میں جہنم کے (55) وہ کہے گا: اللہ کی قسم! بلاشبہ قریب تھا توکہ ہلاک کر ڈالتا مجھے (56) اوراگر نہ ہوتا فضل میرے رب کا تو البتہ ہوتا میں حاضر کیے ہوئے (مجرموں) میں (57) کیا پس نہیں ہم (اب) مرنے والے؟ (58) سوائے مرنے کے ہمارے پہلی بار اور نہ ہم عذاب دیے جائیں گے؟(59)بلاشبہ یہی ہے کامیابی بہت بڑی(60)ایسی ہی (کامیابی) کے لیے ، پس چاہیے کہ عمل کریں عمل کرنے والے (61)

[59-50] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں، کامل مسرتوں، ماکولات ومشروبات، خوبصورت بیویوں اور خوشنما مجالس کا ذکر کرنے کے بعد ان میں آپس کی بات چیت اور ایک دوسرے کو ماضی کے واقعات و احوال سنانے کا ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں گے حتیٰ کہ ان میں سے ایک شخص کہے گا:﴿اِنِّيۡ كَانَ لِيۡ قَرِيۡنٌ﴾ ’’دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا‘‘ جو قیامت کا منکر تھا اور مجھے اس بات پر ملامت کیا کرتا تھا کہ میں قیامت پر ایمان رکھتا ہوں۔اور ﴿يَّقُوۡلُ ﴾ ’’وہ کہا کرتا تھا‘‘ مجھ سے ﴿ ءَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُصَدِّقِيۡنَ۠۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيۡنُوۡنَ ﴾یعنی کیا ہمیں ہمارے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی؟ یعنی تم اس امر محال کی کیسے تصدیق کرتے ہو جو انتہائی تعجب خیز معاملہ ہے؟ جب ہم مرنے کے بعد بکھر جائیں گے، مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن جائیں گے، کیا اس وقت بھی ہمارا حساب کتاب ہو گا اور ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا؟ صاحب جنت اپنے برادران جنت سے کہے گا ’’یہ ہے میرا قصہ اور یہ ہے میرا اور میرے ساتھی کا معاملہ، میں ایمان پر قائم رہا اور روز قیامت کی تصدیق کرتا رہا اور وہ کفر وانکار پر جما رہا اور قیامت کو جھٹلاتا رہا، یہاں تک کہ موت نے ہمیں آ لیا، پھر اس کے بعد ہمیں زندہ کیا گیا، پھر ان نعمتوں تک پہنچا جو تم دیکھ رہے ہو جن کے بارے میں رسولوں نے خبر دی تھی اور مجھے اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ میرا ساتھی عذاب میں مبتلا ہے۔﴿هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو‘‘ تاکہ ہم اسے دیکھ لیں اور ہم جس نعمت و سرور میں ہیں اس میں اضافہ ہو اور یہ آنکھوں دیکھی حقیقت بن جائے۔ اہل جنت کے احوال، ان کے ایک دوسرے سے خوش ہونے اور ایک دوسرے کی موافقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کر لیں گے اور وہ اس کے ساتھ اس کے کافر ہم نشین کا حال دیکھنے جا ئیں گے۔ ﴿فَاطَّلَعَ ﴾ یعنی وہ اپنے ساتھی اور ہم نشین کو دیکھے گا ﴿فِيۡ سَوَآءِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ جہنم کے عین وسط میں اور عذاب نے اس کو گھیر رکھا ہو گا۔ ﴿قَالَ ﴾ یعنی یہ صاحب جنت اس کافر ہم نشین کو ملامت اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہ اس نے اسے اس کافر کے فریب سے بچایا… کہے گا: ﴿تَاللّٰهِ اِنۡ كِدۡتَّ لَـتُرۡدِيۡنِ﴾ اللہ کی قسم! تو نے تو مجھے اپنے مزعومہ شبہات کا شکار کر کے ہلاک ہی کر ڈالا تھا۔ ﴿وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّيۡ ﴾ ’’اور اگر میرے رب نے اسلام پر ثابت قدمی کی نعمت سے نہ نوازا ہوتا ﴿لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’تو میں بھی (تمھارے ساتھ عذاب میں)حاضر کیے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔‘‘﴿اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَوۡتَتَنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم (آئندہ بھی) نہیں مریں گے؟ ہاں (جو) پہلی بار مرنا تھا (سو ہم مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی مومن اس کافر سے نعمت کے بارے میں جو خلود جنت اور جہنم کے عذاب سے نجات کی صورت میں حاصل ہوئی ہے، پوچھے گا۔ یہ استفہام اثبات اور تقریر کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ میں معمول کا حذف ہونا اور مقام کا مقام لذت و سرور ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر اس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے جس کے ذکر سے انھیں لذت حاصل ہوتی ہے اور ان مسائل کے بارے میں سوال کریں گے جس میں نزاع اور اشکال واقع ہوا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہل علم کو علمی مسائل میں ایک دوسرے سے سوال کر کے تحقیق و بحث کے ذریعے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے، وہ اس لذت پر فوقیت رکھتی ہے جو دنیاوی باتوں سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان کو بحث و تحقیق کے ان مسائل سے بہرۂ و افر نصیب ہو گا اور جنت میں ان پر ایسے ایسے حقائق کا انکشاف ہو گا جن کی تعبیر ممکن نہیں۔
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے اور ان کو متذکرہ بالا اوصاف سے موصوف کرنے کے بعد، ان کی مدح فرمائی ہے اور اہل عمل میں اس جنت کا شوق ابھارا اور اس کے حصول کے لیے ان کو عمل پر آمادہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’بے شک یہ البتہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ہر وہ بھلائی حاصل ہوتی ہے جسے نفوس چاہتے ہیں اور ہر وہ چیز دور ہوتی ہے جس کو نفوس ناپسند کرتے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور کامیابی مطلوب ہو سکتی ہے؟ یا یہ سب سے بڑا مطلوب و مقصود ہے جہاں رب ارض و سما کی رضا نازل ہوتی ہے، جہاں اہل ایمان اس کے قرب سے فرحت، اس کی معرفت سے لذت، اس کے دیدار سے مسرت اور اس سے ہم کلام ہو کر طرب و راحت حاصل کریں گے
[61]﴿لِـمِثۡلِ هٰؔذَا فَلۡيَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔‘‘ یہی مطلوب و مقصود سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زندگی کے بہترین سانس صرف کیے جائیں اور سب سے زیادہ اس لائق ہے کہ عقل مند اصحاب معرفت اس کے لیے جدوجہد کریں۔ نہایت افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ دور اندیش آدمی کے اوقات میں سے کوئی ایسا وقت گزرے جس میں وہ ایسے عمل میں مشغول نہ ہو جو اسے اس منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، تب اس کا کیا حال ہے جو اپنے گناہوں کے ذریعے سے ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے۔