پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157)
[149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔
[150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔
[157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔