Tafsir As-Saadi
37:139 - 37:148

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148)

[139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔
[140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔
[141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔
[142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔
[144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔
[145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔
[146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔
[147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘