Tafsir As-Saadi
38:1 - 38:11

صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)

[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘