Tafsir As-Saadi
38:27 - 38:29

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29)

[27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔
[28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔
[29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔