Tafsir As-Saadi
38:50 - 38:54

باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)

[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔