یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘