کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔