Tafsir As-Saadi
39:11 - 39:16

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16)

[11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘
[12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔
[13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔
[14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔
[16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔