Tafsir As-Saadi
39:17 - 39:18

اور وہ لوگ کہ بچے وہ طاغوت سے کہ عبادت کریں اس کی اور رجوع کیا انھوں نے اللہ کی طرف، ان کے لیے خوشخبری ہے، پس خوشخبری دے دیں آپ میرے بندوں کو (17) وہ لوگ جو سنتے ہیں بات کو اورپیروی کرتے ہیں اس میں سے اچھی بات کی یہی وہ لوگ ہیں کہ ہدایت دی ان کو اللہ نے، اور یہی لوگ ہیں عقل والے (18)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لیے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔‘‘ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیراللہ کی عبادت ہے یعنی جنھوں نے غیراللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم و علیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے ﴿وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر ہر چیز کا علم رکھنے والے بادشاہ کی عبادت کی طرف، شرک اور معاصی کو ترک کرکے توحید و اطاعت کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ ﴿لَهُمُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’ان کے لیے ایسی خوشخبری ہے‘‘ جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے اور صرف وہی لوگ اس سے واقف ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس خوشخبری سے سرفراز فرمایا ہے۔ اس میں، دنیا کے اندر وہ بشارت بھی شامل ہے جو بندۂ مومن کو ثنائے حسن، سچے خوابوں اور عنایت ربانی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ انھیں اس بشارت کے اندر صاف دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کا اکرام چاہتا ہے۔ ان کے لیے موت کے وقت، قبر کے اندر اور قیامت کے روز خوشخبری ہے اور ان کے لیے آخری بشارت وہ ہے جو رب کریم ان کو اپنی دائمی رضا، اپنے فضل و احسان اور جنت کے اندر امان کی صورت میں دے گا۔
[18] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے تو اس نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان کو خوشخبری دے دیں اور وہ وصف بھی ذکر کر دیا جس کی بنا پر وہ بشارت کے مستحق قرار پائے ہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡ عِبَادِۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس میرے بندوں کو خوش خبری سنا دو، جو بات کو سنتے ہیں‘‘ یہاں (القول) ہر قسم کی بات کو شامل ہے وہ بات کو سنتے ہیں تاکہ وہ امتیاز کر سکیں کہ کس بات کو ترجیح دی جائے اور کس بات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ان کا حزم و احتیاط اور عقل مندی ہے کہ وہ اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔بہترین کلام علی الاطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ)کا کلام ہے جیسا کہ آگے چل کر اسی سورۂ مبارکہ میں فرمایا: ﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر: 39/23) ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ جب ان ممدوح لوگوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین قول کی اتباع کرتے ہیں، تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہترین کلام کی معرفت حاصل ہو تاکہ ہم بھی عقل مندوں کی صفات سے متصف ہوجائیں اور جو کوئی اس صفت سے متصف ہو تو ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ عقل مندوں میں سے ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! بہترین کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا:﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر:39؍23)’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘﴿الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدٰؔىهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’وہ لوگ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ، پھر اس کے بہترین پہلو کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے‘‘ یعنی بہترین اخلاق و اعمال کی طرف ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔‘‘ یعنی پاک عقل کے مالک ہیں۔ یہ ان کی عقل مندی اور ان کا حزم و احتیاط ہے کہ انھوں نے قول حسن اور غیر حسن کو پہچان لیا اور پھر اس قول کو ترجیح دی جس کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور یہ عقل مندی کی علامت ہے، بلکہ عقل مندی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں ہے کیونکہ وہ شخص جو قول حسن اور غیر حسن میں امتیاز نہیں کر سکتا، ان لوگوں کے زمرے میں نہیں آتا جو عقل صحیح کے مالک ہیں یا وہ اچھی اور بری بات کے درمیان امتیاز تو کر سکتا ہے لیکن جب شہوتِ نفس عقل پر غالب آجاتی ہے اور عقل شہوت کی محض تابع ہو جاتی ہے تو وہ بہترین کلام کی تعظیم نہیں کرتا تب وہ ناقص العقل قرار پاتا ہے۔