اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31)
[27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔
[28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘
[30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘
[31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘