کہہ دیجیے:اے میری قوم! عمل کرو تم اپنی جگہ پر، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، پس عنقریب تم جان لوگے(39) کون ہے کہ آتا ہے اس کےپاس عذاب جو رسوا کر دے اس کواور اترتا ہے اس پرعذاب ہمیشہ دائمی رہنے والا (40)
[39، 40]﴿قُلۡ ﴾ ’’(اے رسول! ان سے) کہہ دیجیے: ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لیے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق نہیں ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ اور میں تمھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ ﴿مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا؟‘‘ یعنی دنیا میں ﴿وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور نازل ہوگا اس پر‘‘ یعنی آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’ہمیشہ کا عذاب۔‘‘آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذاب اس سے ہٹایا جائے گا نہ ختم ہو گا۔ یہ مشرکین کے لیے سخت تہدید ہے۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناد ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے ۔