Tafsir As-Saadi
4:26 - 4:28

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28)

[26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔
[27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغضوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری اصلاح، تمھاری فلاح اور تمھاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمھیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمھارے لیے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔
[28]﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اوامر و نواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمھارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انھیں مباح کر دیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔