یقینا توبہ (کا قبول کرنا) تو اللہ کے ذمے انھی لوگوں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے، پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ متوجہ ہوتا ہے اللہ ان پر (یعنی توبہ قبول کر لیتا ہے) اور ہے اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا(17) اور نہیں توبہ (قبول ہوتی) ان لوگوں کی جو کرتے (رہتے) ہیں برے کام، یہاں تک کہ جب آتی ہے ایک کو ان میں سے موت تو کہتا ہے، بے شک میں نے توبہ کی اب اور نہ ان لوگوں کی جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت دردناک(18)
[18,17] اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (۲) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کر لینا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿ بِجَهَالَةٍ ﴾یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔۔۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔﴿ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کر لیتاہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدۡرَؔكَهُ الۡغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍90) ’’یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ١ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾(المومن:40؍84،85) ’’جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انھوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنھیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّؔيِّاٰتِ ﴾ ’’ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں‘‘ یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّيۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے ۔۔۔ تب آیت کا معنیٰ یہ ہو گا ’’جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کیے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزا کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی:﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ علم اور حکمت والا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہو گا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔